Posts

Showing posts from June, 2020

ملک کی سالمیت خارجی سیاست کی نذر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
ملک کی سالمیت خارجی سیاست کی نذر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی   کسی بھی ملک کی سالمیت اور بقا کا انحصار ،مساوات وبرابری اور انصاف ورواداری پر مشتمل صحت مند داخلی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ دفاعی نظام کے استحکام ،  سرحدوں پر حفاظتی انتظامات کی مضبوطی، اور سفارتی تعلقات روابط کے قیام پر مبنی خارجہ پالیسی بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،  ملک عزیز بھارت میں اول روز سے دونوں پالیسیاں نہایت معتدل اور   مضبوط رہی ہیں خصوصاً  اس کا سرحدی نظا م ہمیشہ سے مستحکم رہا ہے'، سرحدی حفاظت کے لئے ملک کا بڑا سرمایہ مخصوص ہے جو اس پر متعین محافظوں پر صرف ہورہا ہے، اور لاکھوں افراد پر مبنی محافظوں کے یہ سینکڑوں دستے ہمہ وقت ملک کے تحفظ کے لئے تیار کھڑے رہتے ہیں، سرحد کے ان علاقوں میں جہاں سورج شعلے برساتا ہے'، اور ان سرد خطوں میں جہاں درجہ حرارت مائینس ہوجاتا ہے، اور یخ بستہ سردیوں میں پینے کا پانی بھی برف ہوجاتا ہے، یہ پوری تندہی سے ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالے رہتے ہیں'، بلاشبہ خارجی دشمنوں سے بے پرواہ ملک میں  جو تمام سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، معاشی نظ...

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی

Image
ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی  روئے زمین پر قدرت کی طرف سے بکھری ہوئی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی دولت، اور سب سے انمول نعمت ماں کا عظیم  سرمایہ ہے'، اسی دولت کے دم سے زندگی میں بہار ہے'، دنیا میں پھیلی ہوئی محبت کی شعاعیں اسی ماں کی ممتا کے خورشید جہاں تاب کا جلوہ ہے، اولاد کے تئیں ایثار وقربانی، اخلاص و وفا، الفت محبت، وارفتگی وجاں نثار ی کے حوالے سے ماں وہ بے نظیر اور روشن استعارہ ہے جس کا بدل اول روز سے اس روئے زمین پر موجود نہیں ہے، وہ حالات کی کڑی دھوپ میں کبھی سائبان بن کر کھڑی ہوجاتی ہے تو کبھی  گردش زمانہ کے نتیجے میں  حوصلہ شکن ماحول میں مصائب وآلام کی موجوں میں ہچکولے کھاتی ہوئی زندگی کی شکستہ کشتیوں کے لئے عافیت کے ساحلوں کی صورت میں نظر آتی ہے، وہ کبھی موسم خزاں میں بہار بن کر جلوہ گر ہوتی ہے تو کبھی مایوسیوں کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں  موت کے ہم آغوش وجود میں زندگی کا چراغ روشن کرجاتی ہے،  مادیت کے اس عہد میں جہاں خودغرض کرداروں کی حکمرانی ہو،جہاں مفاد پرستی عروج پر ہو، جہاں نفسانیت اور حرص و ہوس کی گھٹائ...

امریکی مساوات کے پردے میں نسل پرستی کا مکروہ چہرہ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
امریکی مساوات کے پردے میں نسل پرستی کا مکروہ چہرہ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی اس دنیا میں عمل کے ساتھ رد عمل اصول کے لحاظ سے اگرچہ ضروری امر نہیں ہے مگر جب کرداروں میں تسلسل ہوتا ہے تو اسی سرزمین پر مکافات عمل کی صورت رونما ہوتی ہے،  مادی طاقت،معاشی فروانی، ٹیکنالوجی ترقی اور عسکری قوت کی بنیاد پر کنگڈم آف امریکہ نے دنیا کے اکثر خطوں میں ایک طویل عرصے سے جو دہشت مچائی ہے'، خصوصا عالم اسلام کے ساتھ جو متعصبانہ کردار ادا کیا ہے، جمہوریت کے نام پر اس نے بیسیوں ممالک پرجس حیوانیت کی صورت میں حملے کئے ہیں،جس طرح انہیں تاراج کیا ہے۔ اپنی فکر کی مخالفت میں اس نے اکثر خطوں میں جو آگ وخون کا کھیل کھیلا ہے'، انسانی حقوق کے نام پر جس طرح اس نے ایشیا سے یورپ تک میں انسانیت کو تار تار کیا ہے'، جمہوریت کا علمبردار بن کر اس نے ویتنام،نیوزیلینڈ جاپان،عراق ،لیبیا،ویانا، اور افغانستان پر جس طرح شعلوں کی بارش کی ہے'،اور لاکھوں افراد کی زندگیاں چھینی ہے'، کرڑوں گھروں کو نذر آتش کیا ہے'، ان گنت شاداب خطوں کو ویران کیا ہے' شہروں اور علاقوں کو کھنڈر میں تبدیل...