Posts

Showing posts from January, 2020

یوم جمہوریہ ہند اور اس کی حقیقت وحیثیت شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
یوم جمہوریہ ہند اور اس کی حقیقت وحیثیت شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی    انسانی زندگی کا بنیادی اثاثہ اور اساسی حق یعنی آزادی کی نعمت جو ایک صدی سے انگریزی استعماریت کی تاریکیوں میں گم تھی ،اور صدیوں کی آبلہ پائیوں اور سرفروشانہ قربانیوں کے نتیجے میں غلامی کی زنجیریں پگھلیں، اور آزادی کا سورج 1947میں ہند کے افق پر طلوع ہوا، برطانوی مصنوعات کی بہت ساری چیزوں میں سے اس کے مخصوص نظام حکومت اور ایکٹ کو بھی یہاں کے رہنماؤں نے ریجیکٹ کردیا چنانچہ بھارت پر برطانوی ایکٹ جو 1935سے نافذ تھا اسے منسوخ کرکے ایک جمہوری نظام اور سیکولر دستور مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا 15/اگست 1947کو بھارت آزاد ہوا اور 26/جنوری 1950/کو ایک جمہوری نظام کے نفاذ کے حوالے سیکولر اسٹیٹ کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا،اس سے پہلے کہ آزاد بھارت کے آزاد اور سیکولر آئین اس کی خصوصیات،اس کی جامعیت،اس کے نظام حکمرانی ونگہبانی، اس کے انفرادی واجتماعی قوانین اور اس کی عدلیہ کی حیثیت کے بارے میں گفتگو کی جائے۔کچھ ذکر جمہوری نظام اور اس کی خوبیوں وخامیوں اور اس کے حقائق کا۔۔۔۔۔ جمہوریت یا ڈیموکریسی۔۔ ملوکیت ی...

صداقت ودیانت کی لاشوں پر نسل پرستانہ کھیل شرف الدین عظیم الاعظمی امام و خطیب مسجد انوار ممبئی

Image
صداقت ودیانت کی لاشوں پر نسل پرستانہ کھیل شرف الدین عظیم الاعظمی امام و خطیب مسجد انوار ممبئی دنیا کی سب کی بڑی جمہوریت اور سیکولر دستور وقانون کے حوالے سے ایک نمایاں پہچان رکھنے والے ملک بھارت کے دستور وآئین پر فرقہ وارانہ اور وحشیانہ قانون کے ذریعے شب خون مار کر اس شناخت کو ختم کرتے وقت،ملک کو ہندو راشٹر کی طرف لیجانے والے نسل پرستانہ اقدامات کے وقت اور اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو برہمن واد کے شعلوں میں جھونکنے والے خاکے میں رنگ بھرتے وقت، انتہا پسند حکومت اور اس کے بدنام زمانہ فرقہ پرست وزیر داخلہ امت ساہ کو قطعی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس غیر سیکولر اور جمہوری نظام سے متصادم نیز انسانیت کے لیے بدنما داغ کی حیثیت رکھنے والے اس سیاہ قانون سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ (CAA) نیشنل رجسٹریشن سیٹیزن شپ (NRC) کے خلاف یونیورسٹی کالج اور اسکولوں کے طلباء سڑکوں پر نکل کر اس جنگلی قانون کا بائیکاٹ کریں گے اور اس قدر قوت کے ساتھ اور سرفروشانہ انداز اور سر سے کفن باندھ کر ظلم کی آندھیوں،سفاکیت کے طوفانوں اور آمریت کی چیخ وپکار سے بے پروا صدائے احتجاج بلند کریں گے کہ جنگل کی آگ کی طرح ...

سوداگران ضمیر وظرف کا غدارانہ کردار از قلم ✍️ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
سوداگران ضمیر وظرف کا غدارانہ کردار  از قلم ✍️ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی  انسانیت سوزی اور  فتنہ وفسادسے ملک قوم اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے والے، انسانیت کو رسوا کرنے والے،  امن وامان کی پر سکون فضاؤں میں زہر گھول کر شیطانیت کی راہ ہموار کرنے والے کرداروں میں سب سے بدترین اور انجام کے لحاظ سے سب سے زیادہ کارگر اور سب سے زیادہ تباہ کن جو عمل اور کردار ہے'وہ منافقت ہے' مدینہ منورہ میں اسلامی اسٹیٹ کے آغاز سے ہی اس کا خطرناک سلسلہ شروع ہوا تو آج تک رکا نہیں ،کوئی دور ایسا گذرا نہیں ہے کوئی عہد ایسا ملتا نہیں ہے جس میں ایمان فروشی اور ضمیر فروشی کے شراروں نے ملت اسلامیہ کے دشت و صحرا میں آتش و آہن کا شیطانی کھیل نہ کھیلا ہو، خلافتِ راشدہ کا عہد ہو یا امیہ کا پرشوکت دور حکومت،عباسیہ کی جہانبانی ہو یا عثمانی خلافت کا زمانہ، صلاح الدین ایوبی کے ایام حکمرانی ہوں یا اندلس وہندوستان کی پر عظمت فرمانروائی کا دور ، ہر عہد میں اس گروہ نفاق اور طبقہ نامراد کی زمیں دوز کارروائیوں اور خفیہ سازشوں کے نتیجے میں  مسلمانوں کا آفتاب اقبال  ادبار کی تاریکیوں میں ...

شہر مونگیر میں ایک شب وروز دوسری قسط شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
شہر مونگیر میں ایک شب وروز دوسری قسط شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی امارت شرعیہ سے تقریباً ساڑھے دس بجے ہم اپنے مستقر ریلوے کالونی پہونچ گئے، ہمارے میزبان محترم شکیل چچا نے اپنے ملازم کو ہمارے کھانے کے انتظام کا حکم دے رکھا تھا تھوڑی دیر وہ مچھلی سبزی اور دیگر اقسام پر مشتمل پر تکلف کھانا حاضر کردیا میزبان نے بڑی محبت اور مکمل اہتمام سے کھانا کھلایا ان کی دلچسپی محبت اور ضیافت سے طبیعت میں ان کی عظمت کا نقش قائم ہوچکا تھا کھانے کے بعد ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ساڑھے گیارہ ہونے کو تھا ٹرین کا بھی وقت ہوچکا تھا مجھے حیرت تھی کہ اس قدر اطمینان سے کیوں بیٹھے ہیں'معلوم ہوا کہ موبائل کے ذریعے وہ ٹرین کی مسافت سے بالکل باخبر ہیں'،دس منٹ بعد اپنے ڈرائیور کو فون کیا وہ گاڑی لیکر حاضر ہو گیا میزبان کی معیت میں اسٹیشن آئے گوہاٹی ایکسپریس آئی اور محترم شکیل صاحب کی محبت وعنایات کی خوشگوار سوغات کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ صوبہ بہار کے بارے میں سنا تھا کہ یہاں ٹرینوں میں ریزرویشن کوئی معنیٰ نہیں رکھتا اس کی تصویر اس ٹرین میں دیکھنے کو ملی ٹرین آئی تو بھیڑ کی وجہ سے اپنے ڈبے می...

شہر مونگیر میں ایک شب وروز قسط اول از شر ف الد ین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
شہر مونگیر میں ایک شب وروز قسط اول از شر ف الد ین عظیم قاسمی الاعظمی   تاریکیاں جب دراز ہوجاتی ہیں،شب دیجور جب خوفناک صورت اختیار کرلیتی ہے تو سحر کی روشنی نمودار ہوتی ہے،اور اس کی کرنوں سے تاریکیوں کی دبیز چادریں چاک ہوجایا کرتی ہیں،1857کے بعد بر صغیر میں غلامی کی تاریکیاں اس قدر ہولناک اور دبیز تھیں کہ امیدوں کے تمام چراغ بجھ گئے تھے،ماحول کی سفاکیت،انگریزی ستم رانیوں کے سلسلے اس قدر طویل تھے کہ مذہب سے لیکر تہذیب وتمدن تک کی تمام منزلیں روپوش ہو چکی تھیں،لیکن قدرت کی یہ کرشمہ سازی تھی کہ انھیں دلخراش ایام میں لمحہ بہ لمحہ عشق ووفا اور جہد واستقامت کے ایسے ایسے قافلے رونما ہوتے رہے جنہوں نے اپنی بے لوث قربانیوں اور لاثانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملت کے تحفظ وبقا کی راہیں نہ صرف دریافت کیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان شاہراہوں میں روشن مشعلیں بھی چھوڑ گئے۔   انھیں کارواں میں ایک نام قظب عالم مولانا محمدعلی مونگیری کا بھی ہے جن کے کثیر الجہات کارناموں نے انہیں سالار کارواں کے منصب پر فائز کیا ہے'   زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے کارناموں کی وسعت اور تنوع کے باوجو...

سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے جمہوریت کا قتل شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے جمہوریت کا قتل شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی   انگریزی استعماریت کی طویل تاریکیوں کے بعد 1947میں ملک کی آزادی کا سورج طلوع ہوا،اور ایک نئے جمہوری ہندوستان نے دنیا کے نقشے پر جنم لیا، جس میں تمام اقوام ملک کو مذہبی لسانی تہذیبی اور تمدنی آزادی تھی، جس میں تمام مذاھب کے پیروکاروں کے لئے فکری آزادی کے حوالے سے ارتقاء کی راہیں ہموار تھیں،      لیکن اسی دور میں جب ملک پوری دنیا میں مختلف قوموں کے درمیان رواداری اور سیکولرازم کی شناخت قائم کررہا تھا ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہوا شدت پسندی جس کی شناخت،فرقہ پرستی جس کی علامت،انتہاپسندی جس کی خاصیت،اور مسلم دشمنی جس کا نصب العین تھا،یہ ملک کی بدقسمتی تھی کہ سیکولر ازم کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے مسلسل منافقانہ کرداروں اور ملت اسلامیہ ہند کے آپسی مسلکی اختلافات اور انتشار اور مستقبل کے حوالے سے اس کی غفلتوں کے باعث نازی ازم پر یقین رکھنے والی اس فرقہ پرست جماعت طویل منصوبہ بندی اور منظم پلاننگ کی وجہ سے مستحکم ہوتی رہی یہاں تک کہ زمیں دوز کارروائیوں کے نتیجے میں معاشیات سے لیکر سیاسیات تک 2...

اقتدار کا کردار اور منصب کی رسوائی شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
اقتدار کا کردار اور منصب کی رسوائی   شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی   عہدے اور مناصب جس قدر معزز،محترم ،باعث عز و شرف اور ذریعہ شہرت ہوتے ہیں'اسی قدر نازک اور حساس بھی ہوتے ہیں'،یہ جہاں انسانوں کو شہرتوں کا پر عطا کرتے ہیں'وہیں ذرا سی بے احتیاطی پر تحت الثریٰ کی گمنام تاریکیوں میں ہمیشہ کے لیے وجود کو قید بھی کردیتے ہیں،عہدہ ومنصب کے لحاظ سے انتہائی ذمہدارانہ کرداروں پر قوم اصحاب مناصب کو سرآنکھوں پر بٹھاتی ہے'مگر جب کرداروں کی پستی،مفادپرستی اور ذاتی خود غرضیوں کے بطن سے رونما ہونے والے افعال ایک باعزت جہانبانی کے فرض کو داغدار کرتے ہیں'تو انہیں قوم کی نگاہوں میں وہ عزت بھی حاصل نہیں ہوتی ہے جو معاشرے میں کسی عام ملازم یا مزدور کی ہوتی ہے'،                                 روزنامہ لازوال                             روزنامہ الحیات رانچی کسی ملک میں پریسیڈینٹ کا مرتبہ انتہائی اعلیٰ ہوتاہے سیکولر نظام اور جمہوری دستور کے...

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی گذشتہ 20دسمبر کو میرٹھ کے ایس پی سٹی اکھلیش نارائن سنگھ نے جمہوریت کی سالمیت کے لئے پروٹسٹ کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ،،تم لوگ یہاں سے پاکستان چلے جاؤ ورنہ میں تمہیں برباد کر دوں گا،، قوم مسلم کو برباد کرنے کی طرح اسی وقت پڑ چکی تھی جب اسلام ایک ننھے سے چراغ کی صورت میں تھا اس وقت سے کسی عہد کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گذرا جس میں اسے صفحہ ہستی سے ختم کرنے کی کوششیں نہ کی گئی ہوں،کوئی دور ایسا نہیں گذرا ہے جس میں اس امت کو نیست و نابود کر نے کی اعلانیہ اور زمیں دوز کارروائیوں کا سلسلہ جاری نہ ہوا ہو،مگر امت مسلمہ اس شجر سایہ دار کی مانند آج بھی اپنے پیروں پر اپنے مکمل وجود کے ساتھ کھڑی ہے، دشمنان اسلام کی یہ خواہش ماضی میں بھی ناکام تھی آج بھی نامراد ہے'آئیندہ بھی حسرتوں کے مزاروں کا طواف ان کا مقدر ہوگا۔۔۔۔۔۔ تاہم اس بات سے قطع نظر انسانیت اخلاقیات اور جمہوریت کے حوالے سے ایک ایسا فرد جس نے عوام کے تحفظ کا لبادہ اپنے جسم پر ڈال رکھا ہے جس نے بدامنی انارکی کو دور کرنے کا ...

روش روش پہ خار ہیں بہار ہے دھواں دھواں شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
روش روش پہ خار ہیں بہار ہے دھواں دھواں شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی 2019کی ساعتیں اپنے دامن میں  تار تار انسانیت،لٹی ہوئی عصمتوں، زخم زخم فضاؤں، بے بس مظلوموں کی آہوں،اور انا پرست اقتدار کے سفاک کرداروں کی دلخراش داستانوں کو سمیٹنے ہوئے رخصت ہو گئیں، ایک نئے سال کا آغاز ہوا،2020کا سورج اسی آب وتاب کے ساتھ اپنی سنہری کرنوں سے ایک عالم کو اجالوں کی سوغات عطا کرتا ہوا نمودار ہوا،خود غرض دنیا نے اپنی وسعتوں کے مطابق اسی طرح اس کا استقبال کیا ماضی قریب میں جس طرح کرتی آئی تھی شہنائیاں بجیں رقص ہوئے،نغموں کی برسات ہوئی، موسیقی کی تانوں پر اجسام تھرکے، اور وہ سب کچھ ہوا جو جشن کے نام پر ہوتے ہیں، لیکن۔۔۔آہ زندگی کے مقاصد سے بے خبر انسانیت کی اسی بھیڑ میں جب سڑکیں ان کے بے ہنگم رقص سے بھری ہوئی تھیں، میخانوں میں شراب کے دور چل رہے تھے،عیش ونشاط کی بزم آرائیاں شباب پر تھیں عین اسی لمحے انسانیت کے محافظوں کی ، آزادی کے متوالوں کی ،شمع وطن کے پروانوں کی،مساوات وعدالت کے علمبردار وں کی اور علم و ادب کے مسافروں کی ایک بڑی تعداد دارالحکومت دہلی کی شاہراہوں پر موسم سرما...

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی فسطائی طاقتوں کے ظالمانہ قانون کے خلاف ملک کے طول وعرض میں احتجاج کی لہریں جس قدر شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں، آزادی کی چنگاریاں جس طرح شعلوں میں بدل رہی ہیں، آمریت کے خلاف انقلابی آواز میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جارہا ہے اسی قدر انسانیت کی روح سے ناآشنا اور موت کے سوداگر اقتدار کی بے حسی بھی بڑھتی جارہی ہے ، فرقہ وارانہ نظریات اور نسل پرستی کی جو پلاننگ مدتوں پہلے کی گئی تھی اسے عملی جامہ پہنانے کی اس قدر جلدی ہے'اور اس معاملے میں وہ اس قدر اندھی ہو چکی ہے'کہ نہ اسے ملک کی سالمیت کا خیال ہے نہ انسانیت کی پروا۔نہ اسے وطن کی تباہی کا احساس ہے'اور نہ ہی تار تار ہوتی جمہوریت اور آئین کی فکر،یہی وجہ سے کہ اس نے نسل کشی کرنے والے، انصاف وعدالت کا خون کرنے والے، مساوات ورواداری کے گلستاں کو تہ و بالا کرنے والے ایک غیر انسانی اور غیر قانونی خود ساختہ قانون کی تکمیل کے لیے اس نے پورے ملک کو آگ کے شعلوں میں جھونک دیا ہے'، عوام اضطراب کا شکار ہے'، اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات شریانوں کو منج...