سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے جمہوریت کا قتل شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے جمہوریت کا قتل

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

  انگریزی استعماریت کی طویل تاریکیوں کے بعد 1947میں ملک کی آزادی کا سورج طلوع ہوا،اور ایک نئے جمہوری ہندوستان نے دنیا کے نقشے پر جنم لیا، جس میں تمام اقوام ملک کو مذہبی لسانی تہذیبی اور تمدنی آزادی تھی، جس میں تمام مذاھب کے پیروکاروں کے لئے فکری آزادی کے حوالے سے ارتقاء کی راہیں ہموار تھیں،
     لیکن اسی دور میں جب ملک پوری دنیا میں مختلف قوموں کے درمیان رواداری اور سیکولرازم کی شناخت قائم کررہا تھا ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہوا شدت پسندی جس کی شناخت،فرقہ پرستی جس کی علامت،انتہاپسندی جس کی خاصیت،اور مسلم دشمنی جس کا نصب العین تھا،یہ ملک کی بدقسمتی تھی کہ سیکولر ازم کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے مسلسل منافقانہ کرداروں اور ملت اسلامیہ ہند کے آپسی مسلکی اختلافات اور انتشار اور مستقبل کے حوالے سے اس کی غفلتوں کے باعث نازی ازم پر یقین رکھنے والی اس فرقہ پرست جماعت طویل منصوبہ بندی اور منظم پلاننگ کی وجہ سے مستحکم ہوتی رہی یہاں تک کہ زمیں دوز کارروائیوں کے نتیجے میں معاشیات سے لیکر سیاسیات تک 2014ء میں پورے ملک کے طول و عرض پر چھا گئی،سیاسی طاقت کا حاصل ہونا تھا کہ جمہوریت کے تمام ستون زیر وزبر ہوکر رہ گئے،میڈیا کو خرید لیا گیا سرمایہ داروں کو ہمنوا بنایا گیا اور عدلیہ کو قبضے میں کرلیا گیا،اب ہدف سامنے تھا،چنانچہ ملت اسلامیہ ہند پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی ساری تدبیریں بڑی تیزی سے روبہ عمل لائی گئیں، اور ایک سیکولر ملک میں خودساختہ اور ایک مخصوص اقلیت کی تہذیب وثقافت اور مذہب وعقائد پر حملہ کرنے والے مختلف قوانین کو مسلط کردیاگیا، مآب لینچیگ کی راہیں ہموار کی گئیں ،کشمیر میں دفعہ 370 ختم کرکےپوری ریاست کو زنداں کی تاریکیوں میں بدل دیا گیا،قدیم تاریخی مسجد کو چھین لیا گیا،طلاق ثلاثہ کی شکل میں پرسنل لاء کی روح کو ختم کر دیا گیا اور اب اسی قوم کو جس کے آباؤاجداد نے دیش کی حفاظت کے لئے تن من دھن کی قربانی دی تھی،اپنی اولادوں کو یتیم کیا تھا، اپنے لہو سے اس کی سرزمین کو لالہ زار کیا تھا، اس ملک سے بے دخل کرنے کی حکومتی سطح پر غیر انسانی تدبیریں اختیار کر کے جمہوریت کا سرعام خون کردیا گیا،
کسے نہیں معلوم کہ برصغیر کے ممالک ترقی یافتہ نہیں بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں شامل ہیں یہ ملک ہزار ڈیولپمنٹ کے باجود آج بھی معیشت اور معیار زندگی کے لحاظ سے ابھی بہت پیچھے ہے' ملک کی اسی فیصد بادیہ علاقے کی آبادیاں خط افلاس کے نیچے زندگی گذار رہی ہیں'کاغذات کیا ہوتے ہیں،سیٹیزن شپ کس چڑیا کا نام ہے انہیں کیا خبر، صبح سے شام تک مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے والے اس طبقے کے یہاں نہ ان جھمیلوں سے کوئی سروکار ہے'اور نہ ہی اقتدار کو ان کی پروا۔۔۔۔۔۔۔۔اس حقیقت کے باوجود اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لئے این آر سی،،کے نام سے قانون بنایا گیا، عصبیت کے دشت میں سرگرداں ملکی مفادات کے تمام محاذوں پر ناکام حکومت ملک کی بڑی اکثریت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے اور اسے نیشنلٹی کے لحاظ سے کمزور کرنے کے لئے قانون تو پاس کردیا مگر جب آسام کی ریاست میں اس کا نتیجہ ظاہر ہوا تب یہ راز کھلا کہ برسوں کی منصوبہ بندیاں اور ساری تدبیریں الٹی ہوگئیں اور مسلمانوں کے مقابلہ میں غیر مسلموں کی خارج ہونے والی تعداد این آر سی،،کی فہرست سے دو گنا زیادہ ہے'،

ظلم واستبداد جب طبیعت کا مزاج بن جاتاہے اور انصاف وانسانیت جب دلوں سے رخصت ہوجاتی ہے تو وجود ہوس کے دائرے میں تنگ ہوجاتا ہے پھر وہ دوسروں کی بربادی میں یہ بھی نہیں سوچتا ہے'کہ جس چمن کو آگ کے حوالے کیا جارہا ہے اس کے شعلوں سے اپنا نشیمن بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے، چنانچہ خود ملک اور وطن کے احساس زیاں سے بے خبر ہوکر بغض وعناد کے ماتحت این آر سی،،کو کامیاب کرنے کے لئے حکومت نے سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹcaa۔کے نام سے ایک نیا ظالمانہ اور فرقہ وارانہ قانون طاقت کے نشے میں پارلیامنٹ اور راجیہ سبھا سے پاس کرکے ملک کو نازی ازم فسطائیت اور آمریت کی پر خطر راہ پر کھڑا کردیا،

یہ قانون ملکی سماجی،لسانی ،جمہوری اور انسانی ہرلحاظ سے
سیکولرازم سے متصادم ہے، اس کی رو سے بنگلہ دیش افغانستان اور پاکستان سے آنے والی تمام اقلیتوں وہ ہندو ہوں یا بدھ جین ہوں یا پارسی سکھ ہوں یا عیسائی تمام لوگوں کو شہریت سے نوازا جائے گا ہاں اگر آنے والا مسلمان ہے'تو اس کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے
حیرت ہے مذہب کی بنیاد پر اور مائنارٹی اور قوم کی بنیاد پر 
پیش ہونے والے اس سیاہ اور بدترین قانون پر ان سیاسی لوگوں نے بھی تائید کی جو سیکولر کی پہچان رکھتے تھے،
دنیا جانتی ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس ملک کی ترقی کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے'اس حوالے سے اس کے پاس  بصیرت وشعور کا سرمایہ ہے'نہ ہی اس کی فکر،ان کا مشن صرف اور صرف مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا ہے'اور وہ اس میں مصروف ہیں،ان کا مقصد ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا ہے'سو وہ بالکل تیز رفتاری سے کررہے ہیں، ملک کی معیشت کہاں جارہی ہے،مہنگائی کا کیا عالم ہے'،کرنسی کا معیار کہاں پر ہے'،ان چیزوں سے انھیں پہلے بھی کوئی مطلب نہیں تھا آج بھی دلچسپی نہیں ہے'،آج اس ملک کا ڈی جی پی،گر کر دو تک آچکا ہے'یعنی دنیا کے ان ممالک میں اس شمار ہونے لگا ہے'جو غربت کی انتہاؤں پر آتے ہیں' بنگلہ دیش کی معیشت اس سے مستحکم ہے'اس کا ڈی جی پی،،اس سے کہیں اوپر ہے'
ایسی صورت میں وہاں سے کیونکر لوگ آئیں گے یہی حال افغانستان کا بھی ہے،پاکستان نے کبھی اس کی طرف مڑ کر دیکھا تک نہیں ہے،اس لئے مذکورہ ممالک سے اقلیتوں کے آنے کا سوال ہی نہیں ہے،اور نہ اس نیت سے بل لایا گیا ہے۔
بلکہ اس کا واضح مقصد این آر سی کے ذریعے جو غیر مسلم اقلیتیں شہریت سے خارج ہوجائیں انھیںcaa،کے ذریعے فی الفور شہریت فراہم کرنا ہے اور اس ملک کے مسلم باشندوں کو ڈیٹینش کیمپ میں ڈال کر انہیں غلام بنانا ہے۔یعنی سی اے اے مذکورہ ممالک کے مہاجرین کے لیے انٹری کارڈ سے زیادہ یہاں کے مسلمانوں کی شہریت چھیننے کا مقدمہ ہے'
یہ کیسی ذہنیت اور یہ کیسی انسانیت ہے'،اور کیسا غیر انسانی قانون اور کیسا جنگل راج ہے کہ باہر سے آنے والوں کو شہریت فراہم کی جائے اور صدیوں سے رہنے والے یہاں کے باشندوں کو اس سے محروم کر دیا جائے،
لیکن جب آنکھیں پر تعصب کی پٹیوں سے ڈھک جاتی ہیں،ذہن ودماغ دشمنی اور عناد کے خول میں بند ہوجاتے ہیں،طاقتوں کے خمار میں عقلیں مفلوج ہو جاتی ہیں تو انصاف وعدالت بے حیثیت اور انسانیت بے معنیٰ ہوکر رہ جاتی ہیں، پھر حیوانیت اور درندگی پر انسانیت چیختی ہے چلاتی ہے،فریاد کرتی ہے،مگر آمریت کے اس صحرا میں اس کی آواز فضاؤں میں تحلیل ہوکر رہ جاتی ہے،کچھ یہی حال آج بدقسمتی سے اس ملک کے اقتدار کا بھی ہے'،جس نے پورے ملک کو شعلوں میں جھونک دیا ہے۔
روزنامہ الحیات رانچی 


 عوام کی فریاد واحتجاج اور حکومت کی ظلم و سفاکیت،،

یہ ملک جمہوریت کے ستونوں پر قائم تھا اور آئین کے لحاظ سے آج بھی سیکولر ہے جس میں ہر فرد کو اپنے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کا اختیار ہے حکومتیں تخت اقتدار پر انہیں کے ذریعے آتی ہیں اور اس حلف کے ساتھ آتی ہیں کہ وہ ملک کی عوام کی خدمت کریں گی ان کے حقوق کی حفاظت کریں گی تعلیمی معاشی اقتصادی ترقی کی راہیں ہموار کریں گی،اور اگر اس راہ سے وہ منحرف ہوئیں تو عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے
کسی طاقت کو کسی حکمراں کو ان آوازوں پر ان مظاہروں پر پابندی لگانے کا حق نہیں ہے' لیکن جب اقتدار پر طاقت کا خمار رہتا ہے تو وہ اپنے نظریات کو اپنی احکامات کو اپنے ہر اخلاقی وغیر اخلاقی عمل کو قانون سمجھتی ہے'اس کی راہ ہر اٹھنے والی صداؤں کو زنجیروں میں قید کرنے کی کوشش کرتی ہے'،
بدقسمتی سے اس وقت ملک کی عوام کے ساتھ ظلم وبربریت کا یہی شیطانی رقص پورے ملک میں جاری ہے'،مذہب کی بنیاد پر اساسی حقوق کی منظم طور پر حکومتی سطح پر پامالی کے نتیجے میں جامعہ ملیہ دہلی کے اسٹوڈنٹس کی صدائیں بلند ہوئیں، اقتدار کے غیر منصفانہ اور جنگلی قانون کے خلاف رونما ہونے والے ایک پر امن احتجاج کو بھی یہ حکومت برداشت نہ کرسکی اور ان معصوم طلباء وطالبات کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے بدترین قسم کی وحشیانہ ڈکٹیٹر شپ کا ثبوت دیا،ہر فرد یہ جانتا ہےکہ اور خود  اصحاب اقتدار کو بھی معلوم ہے'کہ یہ مظاہرہ پرامن تھا اور ان کا حق تھا مگر جنہیں مظلوموں کے خون کا چسکا لگ چکا ہو وہ ماحول میں امن وسلامتی کیونکر گوارا کریں گے، مظاہرہ دو بجے تک ختم ہوچکا تھا طلباء اپنے اپنے کمروں اور درسگاہوں میں جاچکے تھے اچانک منصوبہ بند طریقے سے پولیس فورس نے ان پر حملہ کیا گیٹ کے دربانوں پر تشدد کیا لائیبریری میں ہاسٹل میں مسجد میں گھس کر آنسو گیس چھوڑے اس کے بعد انتہائی بے دردی سے نہتے لڑکوں پر مارا پیٹا گولیاں چلائیں اور بے شمار لوگوں کو خاک وخون میں نہلا دیا،اس کے کچھ ہی دیر بعد
علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں بربریت اور ظلم وسفاکیت کا یہی کھیل کھیلا گیا،وہاں لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس کر ان پر حملہ کرکے فورس نے بہادری کا کارنامہ انجام دیا،
اقتدار کے نشے میں چور حکومت شاید اس بات سے بے خبر ہے اس روئے زمین پر کسی شے کو ثبات نہیں ہے بے شمار وقت کے فرعون اٹھے اور شام تک اس پوزیشن پر آئے کہ وطن کی مٹی بھی انہیں میسر نہ ہو سکی،مظلوموں کی آہیں بے اثر نہیں ہوتی ہیں،
 خون شہیداں کی سرخیاں غارت گران قوم و ملت اور سوداگران موت کے لئے ہمیشہ عبرت خیز زوال کا پیام تھیں آج بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور مظاہرین کے لہو کی لالیوں نے ملک کے چپے چپے میں اسی طرح آمریت کے خلاف آگ لگائی ہے'جس طرح انگریزی استعماریت کے خلاف پورا ملک آتش وآہن جل رہا تھا،طاقت کے زور پر جس طرح معصوم بچوں اور طالبات کےساتھ ملک کی عظیم دانشگاہوں ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی میں ظلم وسفاکیت کا شرمناک کھیل کھیلا گیا اور اس کے ذریعے آزادی کو قید کرنے کی کوشش کی گئی اس میں وقت کی حکومت بری طرح ناکام ہوگئی دہلی میں اٹھنے والی یہ آوازیں ملک گیرتحریک کی شکل اختیار کرکے پورے ملک میں حکومت کے ظالمانہ کرداروں کو اس کی عصبیت کو اس کی اسلام اور مسلم دشمنی کو طشت ازبام کردیا ہے'،
  ملک کے اکثر علاقے کی فضائیں حکومت مخالف مظاہرے سے گونج رہی ہیں دہلی سے لیکر کیرالہ تک ملک کا چپہ چپہ سراپا احتجاج بنا ہوا ہے'مگر باوجود اس کے جابران وقت کی پیشانیوں پر ذرا بھی شکن نہیں ہے بلکہ اپنے شرمناک موقف پر سختی سے نہ صرف قائم ہے'بلکہ اپنے مشن کے لئے ظلم وجبر کا بازار بھی گرم کر رہی ہے'،یوپی میں پولیس کی بربریت ووحشیانہ سفاکیت جاری ہے'اب تک گیارہ افراد کو گولیوں سے شہید کردیا گیا ہے بہار کرناٹک اور دوسرے صوبوں میں کئی بے قصور مظاہرین جام شہادت نوش کر چکے ہیں جس قدر ظلم کی آندھیاں بڑھ رہی ہیں حکومت مخالف آوازوں میں احتجاجی مظاہروں میں اسی قدر شدت آتی جارہی ہے،ایسا محسوس ہورہا ہے' انگریزی استعماریت اور سفاکیت کا دور پھر سے آچکا ہے اور واقعہ یہ ہے'کہ آزادی کے بعد سے اب تک اس طرح نہتے عوام پر کسی حکومت نے درندگی اور حیوانیت کا جارحانہ سلوک نہیں کیا تھا ۔
تاہم یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ ظلم جب انتہا کو پہنچتا ہے، سفاکیت جب عروج پر ہوتی ہے، عوام کے حقوق پر جب ڈاکہ زنی ہوتی ہے'، ان کی آزادانہ زندگی پر جب ظالمانہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، آمریت کی تاریکیاں دبیز ہوتی ہیں تو انہیں تاریکیوں سے انقلاب کا سورج طلوع ہوتاہے، اور انقلاب کے اس سیلاب میں طاقتوں کے تمام محلات اور ایوان تنکوں کی طرح بہ جاتے ہیں ،وقت کی سنگینی آواز دے رہی ہے'، چونکاں لمحوں پر بکھرے ہوئے خون شہیداں کی یہ صدا ہے'،ماحول کی لہو لہو فضا پکار رہی ہے'کہ ہنگامی طور متحد ہونے والی آوازیں منتشر نہ ہونے پائیں،مظاہرین کے مضبوط قدم اپنوں کی عیارانہ روشوں کے نتیجے میں ڈگمگانے نہ پائیں، آمریت کی منافقانہ چالوں کے دام کے زیر اثر ہر سو پھیلی ہوئی مجاہدانہ سرگرمیاں سبوتاژ ہونے نہ پائیں،
سوداگران ضمیر وظرف کے سیاہ کردارملک وملت کے جانبازوں اور سرفروشوں کے حوصلوں کو پست کرنے نہ پائیں،
ملک کے حالات چیخ چیخ کر کہ رہے ہیں'کہ اس وقت کی قربانیاں روشن مستقبل کی ضمانت ہوں گی،اس لئے اسی طرز میں قیادت سے لیکر عوام تک اور شہروں سے لیکر دیہات کے کچے مکانوں تک کے باشندے سڑکوں پر اتریں جس طرح عہد غلامی میں ملک کے مجاہدین آزادی نے سرفروشانہ انداز میں پیش کیا تھا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک کہ انتہا پسندی اور فسطائیت کی گھٹائیں اور نازی ازم کی تاریکیاں کافور نہ ہوجائیں، ملک کے حالات بتارہے ہیں'کہ کامیابی کی منزل دور نہیں ہے' 16/پروازیں اور بےشمار ٹرینیں منسوخ ہوچکی ہیں، بیرون ممالک میں ان کے مظالم کے چرچے عام ہیں، سیکولر ذہنیت بیدار ہوچکی ہے'، لااینڈ آرڈر بری طرح مجروح ہوچکاہے،جگہ جگہ دفعہ 144/کے نفاذ کے باوجود نظم ونسق درہم برہم ہے'،حکمرانوں کے عشرت کدوں کے بام و در لرزہ براندام ہیں، آتش و آہن کی لہو لہو فضاؤں میں ماحول کا اضطراب اشارہ کررہا ہے'کہ رات کی تاریکیاں اگرچہ طویل ہیں'مگر لامحدود نہیں ہیں، سفاکیت اور جارحیت کے اسی اندھیروں میں انقلاب کی سحر طلوع ہوگی، آمریت منھ چھپائے گی،
اور مغرور طاقتوں کے اندھیرے بھاگنے پر مجبور ہوں گے،
طول شب فراق سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی رات ہے'جس کی سحر نہ ہو

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
امام وخطیب مسجد انوار شواجی نگر گوونڈی

Comments

Popular posts from this blog

تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے آہ۔۔۔۔۔۔۔مولانا ابن الحسن عباسی شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی