Posts

شہرادب سلطان پور کا ایک یاد گار سفر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
 شہرادب سلطان پور کا ایک یاد گار سفر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی   علم وادب کی عظمت اور ذوق ومزاج کی لطافت اور رعنائی میں اس قدر کشش ہے کہ مادی فاصلے اس کی وجہ سے سمٹ جاتے ہیں، دل ونگاہ کی اجنبیت کی دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں   اذہان و قلوب لمحوں میں محبت وخلوص کے مضبوط رشتوں سے وابستہ ہوجاتے ہیں، زندگی کے سفر میں اکثر وبیشتر ایسے خوبصورت لمحے پہلے بھی آتے رہے کہ صرف چند ساعتوں کی ملاقات مستحکم اور نفع بخش تعلقات کا پیش خیمہ بن جایا کرتی تھیں۔لیکن واٹس ایپ کی ایجاد نے جہاں بہت سے افراد کی زندگیوں کو ضیاع اور ذہنی عیش کوشیوں کے سمندر میں غرق کر رکھا ہے وہیں اس نے علم وادب اور شعر وسخن  کے حوالے سے ارتباط قلوب اور انسلاک ذہن و دل کی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔ واٹس ایپ پر علمی ادبی نشستوں کے ذریعے جن اہل نظر اور اہل سخن سے خلوص ووفا کے رشتے قائم ہوئے ہیں ان میں ایک معتبر نام محترم عامل صدیقی کا بھی ہے'جن کی شخصیت اپنے کردار کی بلندی اور اخلاق کی عظمت کے باعث بہت کم عرصے میں ہمارے دل ونگاہ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔  عامل صدیقی صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، نہایت باذوق اور خ...
Image

ملت اسلامیہ ہند کا مسیحا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
ملت اسلامیہ ہند کا مسیحا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی       آج سے تقریباً دوسال قبل شہر ممبئی کے گوونڈی علاقے میں سیرت النبی کے موضوع پر مسجد ام القری کے زیر اہتمام ایک جلسے کا انعقاد تھا ، جس میں بحیثیت سامع میں بھی شریک تھا حمد ونعت کی روایات کے جلوے سامنے آئے پھر کچھ مقامی علماء کی ابتدائی تقریروں کے بعد کلیدی خطاب کے لئے اسٹیج پر ظاہری حسن وجمال سے آراستہ ایک شخصیت جلوہ گر ہوئی، روشن ،گول اور بارعب اور کھلا ہوا چہرہ، رنگ بالکل گورا اور حسن و جمال کا پیکر،کشادہ پیشانی،لحیم شحیم  قد وقامت، سیرت النبی کے موضوع پر دھیمے اور پرسکون مگربھاری لہجے میں  خطاب کا آغاز ہوا، رفتہ رفتہ آواز کے زیر وبم میں تبدیلی ہوتی گئی،اور موضوع کی نزاکت کے لحاظ سے بلند ہوتی گئی اور تھوڑی دیر بعد لہجے اور اسلوب میں وہ گرج اور شان پیدا ہوئی جیسے طوفان کی شکل اختیار کرتی ہوئی دریاؤں کی پرسکون لہریں۔       آواز میں بلندی کے ساتھ ساتھ اثر انگیزی بھی تھی اور خطیبانہ جوش بھی، مجمع پر سحر طاری کرنے والے مضامین بھی تھے اور ان کے دلوں پر نقش کالحجر ہوجانے والے حرف وصوت ک...

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی ملک کی ترقی،اس کی خوشحالی، اس کا معاشی استحکام، امن وامان کی صورتحال،اور سماج کی خوبصورتی ۔جہاں باہمی رواداری، انسانی حقوق کی پاسداری، اور اپنے ملکی،سماجی ،فرائض کی دیانت کے ساتھ انجام دہی پر منحصر ھے،وہیں اس کو ارتقاء کی راہوں سے آشنا کرنے کے لئے ملک کے نگہبان اور اس کے حکمرانوں کی نیتوں کی شفافیت، قلب ونظر کی وسعت، انصاف ودیانت، عناد وتعصب سے پاک کردار وعمل کی یکسانیت، اور رواداری ومساوات اور جمہوریت وعدالت جیسے اوصاف بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ، یہی وہ کردار ہیں جو ملک کو سیاسی، معاشی، سماجی، اقتصادی اور تہذیبی لحاظ سے اونچے مقام پر لے جاتے ہیں، یہ ملک کی عمارت کے وہ ستون ہیں'کہ اگر ایک بھی ان میں سے منہدم ہو جائیں تو ملک کی عمارت کمزور ہوجاتی ہے، اس کا آئین بے روح اور اس کی فضا مسموم ہوجاتی ہے'، بدقسمتی سے ملک بھارت میں ارتقاء کی عمارت کا کوئی ستون بھی صحت مند اور سالم نہیں ہے بلکہ اس کے تمام درودیوار فرقہ پرستی اور متعصبانہ شعلوں کی زد میں آکر مخدوش ہوچکے ہیں، ایک طرف عوام کے درمیان منافرت کی وسیع خلیج ہے'، مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ کشیدگی ہے'، نظریات وخیالات کے اختلاف کے نتیجے میں انتہا پسندی ہے'، امیر وغریب کے درمیان طویل فاصلے ہیں، انسانوں کے درمیان طبقاتی کشمکش ہے'، طاقت کے غرور میں کمزوروں پر مختلف قسم کی ستم رانیوں کے سلسلے ہیں، اکثریت کے زعم مکروہ کے نتیجے میں اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کا نشہ ہے'، نفرت ہے،عداوت ہے،متشددانہ کردار ہے، انتہا پسندانہ عمل ہے'، فسادات ہیں، مآب لنچنگ ہے، خوف وہراس ہے،اور ملک کے ایک اک گوشےمیں ،دہشتوں کے مہیب سائے ہیں، ۔ تو دوسری طرف اس ملک پر اصحاب اقتدار کی ناانصافیوں کی طویل داستان ہے'، دہرے روئیے ہیں، ڈکٹیٹر شپ ہے،آمریت ہے، متعصبانہ روش ہے'، اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کی پالیسیاں ہیں، اور ایک قوم کو بے دست وپا کردینے اور اسے بے حیثیت کرکے گمنامی کے اندھیروں میں غرق کر دینے کے منصوبے ہیں، جمہوریت کے اس دیس میں قوم پرستی کی لہر اور فسطائیت وکمیونزم کے نفاذ کی غیر قانونی کوششیں اور سرگرمیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبے وہ سیاست و عدالت، ہو یا معیشت و معاشرت ،تعلیم و تدریس ہو یا صنعت وتجارت ، زوال و انحطاط کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں، ہر طرف بے یقینی کی فضا ہے'، مایوسیوں کا ماحول ہے'، غربت و افلاس کا سایہ ہے'، بے بسی کی دھوپ ہے'، پسماندگی کا راج ہے'، اور بے کسی کے اندھیرے ہیں، دنیا میں وہی معاشرہ خوشحال ہے'،وہی ملک ارتقاء آشنا ہے'، وہی سماج امن کی راہوں پر گامزن ہوسکتا ہے جس میں فرمانرواؤں اور سیاست دانوں کی لفظی بازیگری کے بجائے عمل کی حکمرانی ہو،کرداروں کی قوت ہو، انصاف ومساوات کے اجالے ہوں۔ اس کے برعکس کردار وعمل اگر غیر منصفانہ ہوں، ملکی مفادات پر ذاتی مفادات کا نظریہ اور پلان ہو، متعصبانہ فکر اور فرقہ وارانہ سوچ ہو،تو ان سے وہی نتائج پیدا ہوتے ہیں جو ہم اور اس ملک کے تقریباً تمام شہری ہی نہیں پوری دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے ، جو غربت،افلاس، بدامنی،انارکی ، تشدد خونریزی، عداوت ومنافرت، نفرت وتعصب، فرقہ وارانہ جنون اور نسل پرستانہ دیوانگی، خیانت وبددیانتی، اور رشوت و ڈاکہ زنی،اور قتل وغارت گری کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لفظوں کے سبز باغ سے ارتقائی عمارت تاریخ میں کبھی کھڑی ہوئی ہے اور نہ کی جاسکتی ہے،لیکن اس کے باوجود اس ملک کے فرمانروا نے اپنے پورے عہد اقتدار میں اسی غیر حقیقی تصور پر اپنے نظریات کی عمارت بنانے کی کوشش کی ہے'اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد محض ایک قوم کے عناد پر سب کچھ صحیح ماننے کو تیار بھی ہوجاتی ہے'اس سے اس ملک کی فضا اور اس کے مسموم ماحول کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ملک کے اقتدار اعلیٰ کا حالیہ بیان درحقیقت اسی نوعیت کا ایک نمونہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے، پوری دنیا میں پھیلی ہوئی عالمی وبا کے تناظرمیں وقفے وقفے سے رونما ہونے والا یہ چھٹا بیان ہے' اور اس دوران نسبتاً قدرے طویل وقفے سے ظاہر ہوا ہے، مگر ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی اس میں وہی سنہرے وعدے ہیں، ماضی کے ہوائی کارناموں کی فہرست ہے ، حقیقی دنیا سے جس کا کوئی واسطہ نہیں ہے،ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک خاص طبقے اکثریت کی تسلی کا سامان فراہم کیا گیا ہے، ملک کی عوام بہت ساری امیدوں کے خواب سجائے شدت سے منتظر تھی کہ اس بار خطاب میں معاشی لحاظ سے بدحال اور مفلوک الحال افراد کو نئی زندگی فراہم کرنے والی سہولیات کا اعلان کیا جائے گا، ملک میں پھیلی ہوئی بے روزگاری کو ختم کرنے کی مضبوط اسکیم جاری ہوگی، کاروبار و معیشت کی غرق آب کشتی کو ساحلوں سے ہم کنار کرنے کی مستحکم پلاننگ رونما ہوگی، پٹرول وڈیزل کے ساتھ ساتھ دوسری بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بات ہوگی، ملک کی سالمیت کے حوالے سے چائنا کی جارحیت پر ٹھوس پالیسی منظر عام پر آئے گی، کرونا کی وبا کے نتیجے میں ہاسپیٹلوں میں مریضوں کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویوں پر گفتگو ہوگی، مگر جب اسپیچ آئی تو پتہ چلا کہ اس کی سمت کہیں اور ہے، اور اس کے ٹاپک کا رخ دوسری طرف ہے'، ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے فیصلے سے متوسط طبقات کی حالت جس قدر ابتر ہوئی ہے'،کاروبار اور صنعت وتجارت کے حوالے لاکھوں افراد جس طرح بے دست و پا اور تنگ دست ہوئے ہیں، بے شمار خوشحال خاندانوں کی زندگیاں جس کس مپرسی میں شب وروز بسر کررہی ہیں، مزدور طبقے کے لاکھوں افراد بے بسی کی حالت میں جس طرح فاقہ کشی پر مجبور ہیں،ان کے انتظام کے سلسلے میں، افلاس اور غریبی کے عفریت سے انہیں آزاد کرنے کے سسٹم اور منصوبہ کے بارے میں حالیہ خطاب میں بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آئی، کرونا کی ہلاکت خیز وبا میں گرفتار بے شمار مریضوں کی طبی سہولیات،ہاسپیٹل میں ان کے ساتھ حیوانیت جیسا برتاو اور سلوک اور ان کے ساتھ لاپرواہی،پرائیویٹ اسپتالوں کی خدمات پر بندش اور سرکاری ہاسپٹل میں ڈاکٹروں کی عدم توجہی، کے نتیجے میں جس طرح اموات کا تسلسل ادھر سے ادھر تک جاری ہے'اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، بیسیوں ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں ۔ایک اچھا خاصا شخص معمولی بخار کھانسی جیسی بیماریوں کے ساتھ ہاسپٹل جاتا ہے'اور دوسرے یا تیسرے روز پر اسرار حالات میں اس کی لاش ہی برآمد ہوتی ہے'، اس طرح کے لاپرواہی، بے توجہی، ناروا سلوک، اور مریضوں کے اہل خانے سے سخت رویوں کے واقعات کی سنگینی یہاں تک پہنچ چکی ہے'کہ انہیں لاش تک دیکھنے کی اجازت نہیں ملتی ہے ،متعددایسی واردات پیش آئی ہیں کہ انسانوں کا پورا وجود ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے'، ممبئی میں ایک مریض کی موت کے بعد سیل شدہ باڈی جب اہل خانہ کو فراہم کی گئی اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے برخلاف جب اسے کھولا گیا تو میت دوسرے شخص کی برآمد ہوئی، حال ہی حیدرآباد وشودھا ہاسپٹل کا ایک کارنامہ سامنے آیا ہے'جس کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے' کہ ایک مولانا جو شوشل ورکر تھے، معمولی بیماری میں مبتلا ہوئے، مذکورہ ہاسپٹل میں داخل ہوئے تو دوسرے روز یہ کہ دیا گیا کہ مریض کی ڈیتھ ہوگئی ہے گھر والوں نے اثر رسوخ کی وجہ سے جب تمام وارڈ میں چیک کیا تو ایک جگہ وہ زندہ حالت میں ملے اس طرح ان کی جان بچی، انسانوں کے ساتھ مختلف قسم کی بے شمار بیماریاں ساتھ ساتھ رہتی ہیں جس کا نارمل حالت میں علاج ومعالجہ جاری رہتا ہے'لیکن انہیں بیماریوں کے ساتھ جب اس دور میں کوئی شخص اسپتال جاتا ہے'تو اسے حالیہ وبا کی فہرست میں ڈال کر انہیں اس وارڈ میں داخل کردیا جاتا ہے'جہاں پہلے سے متعدد لاشیں سیل کر کے رکھی ہوتی ہیں،اس صورت حال سے وہ خوف و دہشت میں ایسا جکڑ جاتا ہے کہ پھر وہ ہمیشہ کے لیے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے، عام صحت مند انسانوں کے ساتھ سرکاری اسپتالوں کا رویہ حد درجہ افسوسناک ہے ،جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد یکسر شفاخانوں سے اٹھ چکا ہے ،لیکن اس موضوع پر خطاب میں کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔ ایک طر ف طویل لاک ڈاؤن کا طوفان ہے'جس میں اچھے اچھے خوشحال افراد کے معاشی آشیانے بکھر چکے ہیں،دوسری طرف بڑھتی ہوئی اشیاء خوردونوش کے ساتھ ساتھ پٹرول وڈیزل کی مہنگائی نے زندگی کے سفر کو دشوار تر کردیا ہے' ،ایسے وقت میں تو خاص طور سے ضرورت تھی کہ منظم منصوبے کے تحت اس مہنگائی پر قابو پانے کی فکر کی جاتی لیکن اس خطاب میں اس عنوان کو بھی جگہ نہ مل سکی، ملک کی سالمیت کے لئے بارڈر پر محافظین کی سہولیات اور فوج کے دفاعی واقدامی اختیارات بھی لازمی ہیں، چائنا نے جس طرح ھمارے فوجیوں پر حملے کرکے انہیں زندگی سے محروم کیا ہے'یہ کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہیں ہے'، اس حملے کے ذریعے اس نے بھارت کی اہم سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے'، اسے بازیاب کرانے اور فوجیوں کو مناسب سہولیات فراہم کرنے، چائنا کا ہر لحاظ سے مسکت جواب دینے کے لئے منظم پلاننگ اور مستحکم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔لیکن یہاں بھی اس اہم موضوع کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ہاں۔۔پورے ملک میں جو اناج تقسیم ہوا ہے'، پانچ کلو گیہوں اور چاول غریبوں کو دیا گیا ہے، اس کا ذکر بڑے شدومد سے کیا گیا ہے پوری تقریر اس پر مرکوز رکھی گئی کہ غریبوں کے راشن کا انتظام حکومت نے اس طرح بڑے پیمانے پر کیا ہے کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی،سوال یہ ہے کہ ملک میں غریبوں کو افلاس کے سمندر سے نکالنے کے لیے صرف دس کلو اناج ایک مہینے میں کافی ہے'، ایک ایسے وقت میں جب معاش کے تمام ذرائع بند ہون، علاج ومعالجہ کے سارے سسٹم مخدوش ہوں، ملازمت ومزدوری اور صنعت وتجارت کے سارے راستے مسدود ہوں وہاں زندگی بسر کرنے کے لئے چند کلو غلہ کیا حیثیت رکھتا ہے، افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مفت کے اس راشن کی تقسیم کا اعلان بڑے کروفر سے نومبر تک یہ کہ بڑھا دیا گیا کہ ضروریات زندگی کا دائرہ بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے طویل ہوگیا ہے'، اس ضمن میں مختلف تیوہاروں کا نام لیا گیا، گروپورنما،رکشابندھن،جنم اشٹمی،گنیش چترتھی،نوراتری،درگاپوجا،دسہرہ ،دیوالی اور چھٹی کی پوجا،ان سارے تیوہاروں کا ذکر کیا گیا جس میں ضروریات کے بڑھ جانے کا امکان ہے مگر اس خطاب میں اگر نہیں جگہ ملی تو سامنے آنے والے ایک تیوہار عید الاضحی کو، عیسائیوں کے کرسمس کو، سوال یہ کہ کیا اقتدار اعلی صرف ایک کمیونٹی اور ایک نظریہ ومذہب کے ماننے والوں ہی کے وجود میں آیا ہے، اس کا تعلق دوسری اقوام سے نہیں ہے'صرف اکثریت کی خبر گیری اس کے فرائض میں داخل ہے؟ '، ایک جمہوری ملک کبھی اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اجتماعی سہولیات کے سلسلے میں صرف ایک طبقے کی بات کی جائے اور دوسری تمام اقلیتوں کو نظر انداز کر دیا جائے، وزارت عظمیٰ کا منصب انتہائی معزز اور اونچا ہے'، ملک کی عوام کے درمیان اگر مذہبی تعصب کا ظہور ہوتا ہے'،فرقہ واریت جنم لیتی ہے'، نسل پرستی پر پھیلاتی ہے'،انتہا پسندی راہ پاتی ہے' ،تو ہر چند یہ سماج معاشرے اور ملک وملت کے لئے تباہی وبربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے'لیکن یہی چیزیں جب نگہبانوں کے عمل اور ان کے بیانات سے صادر ہوتی ہیں'تو اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے'، جمہوریت اپنی موت مرجاتی ہے'، ملک رسوا اور قانون بے اثر ہوجایا کرتے ہیں، ہر فرد اس یکطرفہ بیان اور اکثریت کو خوش کرنے والی اسپیچ میں متعصبانہ کردار کو دیکھ سکتا ہے'، جمہوریت کے حوالے سے بھارت پوری دنیا میں ایک شناخت رکھتا ہے'لیکن ماضی قریب کے متعدد فیصلوں کے علاوہ اس اہم خطاب میں بھی ایک کمیونٹی کو نظر انداز کرکے دنیا والوں کے سامنے مساوات،جمہوریت اور سیکولرازم کی کون سی تصویر پیش کی گئی ہے اسے بھی ہر انصاف پسند محسوس کرسکتا ہے۔ ملک کے مزاج اور اس کے قانون کا تقاضا تھا کہ رہنمائے اعظم کی زبان سے جہاں اور اکثریت کی اشک سوئی اور اس کی بندہ پروری کے لئے سنہرے دعوے تھے وہیں اقلیتوں کے تیوہاروں کے لئے ان کے مخصوص خوشی ومسرت کے ایام کی خوشگواری اور ان لمحات کی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی حکومت کی طرف سے کسی وعدے،کسی منصوبے اور کسی جذبات کا ذکر ہوتا۔ مگر جب ملک کی سالمیت،اس کی جمہوریت، اور اس کی مساویانہ روایات کے تحفظ کے بجائے مخصوص نظریات کی تحفیظ اولین ترجیح قرار پاجائے تو کردار وعمل تو ایک طرف رہا۔لفظوں کی سطح پر بھی رواداری اور مساوات کے تصور اور جذبات کو مشکل ہی سے جگہ مل پاتی ہے۔ امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی مسجد انوار گوونڈی ممبئی 8767438283

Image
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی  ملک کی ترقی،اس کی خوشحالی، اس کا معاشی استحکام،  امن وامان کی صورتحال،اور سماج کی خوبصورتی   ۔جہاں باہمی رواداری، انسانی حقوق کی پاسداری، اور اپنے ملکی،سماجی ،فرائض کی دیانت کے ساتھ انجام دہی پر منحصر ھے،وہیں اس کو ارتقاء کی راہوں سے آشنا کرنے کے لئے ملک کے نگہبان اور اس کے حکمرانوں کی نیتوں کی شفافیت، قلب ونظر کی وسعت،  انصاف ودیانت، عناد وتعصب سے پاک کردار وعمل کی یکسانیت، اور رواداری ومساوات اور جمہوریت وعدالت  جیسے اوصاف بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ، یہی وہ  کردار ہیں جو ملک کو سیاسی، معاشی، سماجی، اقتصادی اور تہذیبی لحاظ سے اونچے مقام پر لے جاتے ہیں، یہ ملک کی عمارت کے وہ ستون ہیں'کہ اگر ایک بھی ان میں سے منہدم ہو جائیں تو ملک کی عمارت کمزور ہوجاتی ہے، اس کا آئین بے روح اور اس کی فضا مسموم ہوجاتی ہے'، بدقسمتی سے ملک بھارت میں ارتقاء کی عمارت کا کوئی ستون بھی صحت مند اور سالم نہیں ہے بلکہ اس کے تمام درودیوار فرقہ پرستی اور متعصبانہ شعلوں کی زد میں آکر مخدوش ہوچکے ہیں، ایک طرف ع...

ملک کی سالمیت خارجی سیاست کی نذر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
ملک کی سالمیت خارجی سیاست کی نذر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی   کسی بھی ملک کی سالمیت اور بقا کا انحصار ،مساوات وبرابری اور انصاف ورواداری پر مشتمل صحت مند داخلی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ دفاعی نظام کے استحکام ،  سرحدوں پر حفاظتی انتظامات کی مضبوطی، اور سفارتی تعلقات روابط کے قیام پر مبنی خارجہ پالیسی بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،  ملک عزیز بھارت میں اول روز سے دونوں پالیسیاں نہایت معتدل اور   مضبوط رہی ہیں خصوصاً  اس کا سرحدی نظا م ہمیشہ سے مستحکم رہا ہے'، سرحدی حفاظت کے لئے ملک کا بڑا سرمایہ مخصوص ہے جو اس پر متعین محافظوں پر صرف ہورہا ہے، اور لاکھوں افراد پر مبنی محافظوں کے یہ سینکڑوں دستے ہمہ وقت ملک کے تحفظ کے لئے تیار کھڑے رہتے ہیں، سرحد کے ان علاقوں میں جہاں سورج شعلے برساتا ہے'، اور ان سرد خطوں میں جہاں درجہ حرارت مائینس ہوجاتا ہے، اور یخ بستہ سردیوں میں پینے کا پانی بھی برف ہوجاتا ہے، یہ پوری تندہی سے ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالے رہتے ہیں'، بلاشبہ خارجی دشمنوں سے بے پرواہ ملک میں  جو تمام سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، معاشی نظ...

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی

Image
ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی  روئے زمین پر قدرت کی طرف سے بکھری ہوئی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی دولت، اور سب سے انمول نعمت ماں کا عظیم  سرمایہ ہے'، اسی دولت کے دم سے زندگی میں بہار ہے'، دنیا میں پھیلی ہوئی محبت کی شعاعیں اسی ماں کی ممتا کے خورشید جہاں تاب کا جلوہ ہے، اولاد کے تئیں ایثار وقربانی، اخلاص و وفا، الفت محبت، وارفتگی وجاں نثار ی کے حوالے سے ماں وہ بے نظیر اور روشن استعارہ ہے جس کا بدل اول روز سے اس روئے زمین پر موجود نہیں ہے، وہ حالات کی کڑی دھوپ میں کبھی سائبان بن کر کھڑی ہوجاتی ہے تو کبھی  گردش زمانہ کے نتیجے میں  حوصلہ شکن ماحول میں مصائب وآلام کی موجوں میں ہچکولے کھاتی ہوئی زندگی کی شکستہ کشتیوں کے لئے عافیت کے ساحلوں کی صورت میں نظر آتی ہے، وہ کبھی موسم خزاں میں بہار بن کر جلوہ گر ہوتی ہے تو کبھی مایوسیوں کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں  موت کے ہم آغوش وجود میں زندگی کا چراغ روشن کرجاتی ہے،  مادیت کے اس عہد میں جہاں خودغرض کرداروں کی حکمرانی ہو،جہاں مفاد پرستی عروج پر ہو، جہاں نفسانیت اور حرص و ہوس کی گھٹائ...

امریکی مساوات کے پردے میں نسل پرستی کا مکروہ چہرہ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

Image
امریکی مساوات کے پردے میں نسل پرستی کا مکروہ چہرہ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی اس دنیا میں عمل کے ساتھ رد عمل اصول کے لحاظ سے اگرچہ ضروری امر نہیں ہے مگر جب کرداروں میں تسلسل ہوتا ہے تو اسی سرزمین پر مکافات عمل کی صورت رونما ہوتی ہے،  مادی طاقت،معاشی فروانی، ٹیکنالوجی ترقی اور عسکری قوت کی بنیاد پر کنگڈم آف امریکہ نے دنیا کے اکثر خطوں میں ایک طویل عرصے سے جو دہشت مچائی ہے'، خصوصا عالم اسلام کے ساتھ جو متعصبانہ کردار ادا کیا ہے، جمہوریت کے نام پر اس نے بیسیوں ممالک پرجس حیوانیت کی صورت میں حملے کئے ہیں،جس طرح انہیں تاراج کیا ہے۔ اپنی فکر کی مخالفت میں اس نے اکثر خطوں میں جو آگ وخون کا کھیل کھیلا ہے'، انسانی حقوق کے نام پر جس طرح اس نے ایشیا سے یورپ تک میں انسانیت کو تار تار کیا ہے'، جمہوریت کا علمبردار بن کر اس نے ویتنام،نیوزیلینڈ جاپان،عراق ،لیبیا،ویانا، اور افغانستان پر جس طرح شعلوں کی بارش کی ہے'،اور لاکھوں افراد کی زندگیاں چھینی ہے'، کرڑوں گھروں کو نذر آتش کیا ہے'، ان گنت شاداب خطوں کو ویران کیا ہے' شہروں اور علاقوں کو کھنڈر میں تبدیل...