شہرادب سلطان پور کا ایک یاد گار سفر شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی


 شہرادب سلطان پور کا ایک یاد گار سفر


شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی


  علم وادب کی عظمت اور ذوق ومزاج کی لطافت اور رعنائی میں اس قدر کشش ہے کہ مادی فاصلے اس کی وجہ سے سمٹ جاتے ہیں، دل ونگاہ کی اجنبیت کی دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں

  اذہان و قلوب لمحوں میں محبت وخلوص کے مضبوط رشتوں سے وابستہ ہوجاتے ہیں، زندگی کے سفر میں اکثر وبیشتر ایسے خوبصورت لمحے پہلے بھی آتے رہے کہ صرف چند ساعتوں کی ملاقات مستحکم اور نفع بخش تعلقات کا پیش خیمہ بن جایا کرتی تھیں۔لیکن واٹس ایپ کی ایجاد نے جہاں بہت سے افراد کی زندگیوں کو ضیاع اور ذہنی عیش کوشیوں کے سمندر میں غرق کر رکھا ہے وہیں اس نے علم وادب اور شعر وسخن  کے حوالے سے ارتباط قلوب اور انسلاک ذہن و دل کی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔


واٹس ایپ پر علمی ادبی نشستوں کے ذریعے جن اہل نظر اور اہل سخن سے خلوص ووفا کے رشتے قائم ہوئے ہیں ان میں ایک معتبر نام محترم عامل صدیقی کا بھی ہے'جن کی شخصیت اپنے کردار کی بلندی اور اخلاق کی عظمت کے باعث بہت کم عرصے میں ہمارے دل ونگاہ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ 


عامل صدیقی صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، نہایت باذوق اور خوش مزاج ہیں، شفاف فکر کے حامل ایک خوبصورت سخنورانہ شعور کے مالک ہیں، قادر الکلام شاعر اور نثر نگار ہیں، ان کے کلام میں سلاست و برجستگی کے ساتھ ساتھ معنوی گہرائی بھی ہے، علم عروض اور شاعری کے فنی جہان پر ان کی بڑی گہری نظر ہے، وہ شاعر بھی ہیں اور شاعر ساز بھی، ان کے دربار میں بہت سے طالب علم آئے اور سخنورانہ کمالات کے بام عروج پر پہونچ گئے یہ سلسلہ اب بھی پورے اہتمام سے جاری ہے، وہ پیشے سے ٹیچر ہیں اور سلطان پور شہر سے قریب ہی ایک کالج میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ان مصروفیات کے باوجود شعر وسخن کے گیسو کم وبیش بیس سال سےسنوار رہے ہیں، ان کی ادبی خدمات موبائیل اسکرین کے ذریعے بھی جاری ہے اور ادبی نشستوں کے ذریعے ان کے دولت کدے پر بھی۔


محترم عامل صدیقی صاحب سے تعلق کی ابتدا تقریباً

ڈیڑھ سال پہلے ہی تحریروں اور تبصروں کے ذریعے ہوچکی تھی جو وقت کے ساتھ مضبوط دوستی کے رشتے میں بدل گئی، اس بار میں جب وطن اعظم گڈھ آیا اور انہوں نے اپنے دولت کدے پر حاضری کی دعوت دی تو سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ اس لیےکوئی چارہ نہیں تھا،کہ ان کی شیریں گفتاری،اور خلوص والفت نے انکار کی گنجائش ہی باقی نہیں رکھی تھی اور یوں بھی ملاقات وحصول نیازکی خواہش ادھر سے بھی تھی، اب جب حاضری کی دعوت ملی تو پروگرام بھی اچانک بن گیا۔


شاہ گنج سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر سلطان پور روڈ پر ہمارے رفیق درس اور مخلص دوست مولانا محمد خالد صاحب قاسمی کا گاؤں ہے'جو اسلام آباد کے نام سے موسوم ہے'،ان کا بھی اصرار تھا کہ میں ان کے ہاں آؤں۔اور ان کے مدرسے کا مشاہدہ کروں۔


مولانا خالد صاحب قاسمی ایک باصلاحیت عالم دین ہیں

شعر وادب کا اچھا ذوق رکھتے ہیں،اور بہترین مدرس بھی ہیں عربی زبان پر انہیں خاصی دسترس حاصل ہے'، اس کے علاوہ وہ انتہائی جفا کش،محنتی ،حوصلہ مند اور باہمت ہیں، منزلوں پر رسائی کی بے پناہ قدرت سے مالامال ہیں، دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد مدرسہ دینیہ اشاعت العلوم کوٹلہ اعظم گڈھ میں طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد علاقے کے علمی تقاضے کی آواز پر انھوں نے اپنے والد مولانا حکیم الدین امینی کی سرپرستی میں تعلیم نسواں کی درسگاہ کھولی، اور مسلسل جد وجہد اور قابل رشک سرگرمیوں کے باعث قلیل عرصہ میں اسے ادارے کی شکل دے دی، اس وقت  متعدد درسگاہوں کی تعمیر کے علاوہ چار عدد طالبات کے ٹرانسپورٹ کے لئے گاڑیاں بھی دستیاب کرلی ہیں اس پر گاؤں سے باہر وسیع اراضی کا حصول مستزاد۔اس وقت یہ ادارہ ترقی کی شاہراہوں پر تیزی سے گامزن ہے'اور علاقے کی توجہ کا مرکز ہے'۔۔


مولانا خالد صاحب کے والد صاحب بھی جید عالم دین اور عربی ادب پر زبردست قدرت رکھنے والے ادیب بھی ہیں، ہمارے استاذ ومربی اور استاذ العلماء حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی اور ہندوستان کے جلیل القدر عربی کے انشاء پرداز مولانا نور عالم خلیل امینی استاذ دارالعلوم دیوبند وایڈیٹر ماہنامہ الداعی عربی کے معاصر ہیں، دودہائیوں سے زیادہ عرصہ تک مع فیملی دیار رسول مدینہ منورہ میں بحیثیت لائبریرین مقیم تھے، وہاں سے آنے کے بعد حضرت مولانا اعظمی کے ایماء پر شیخ الاسلام شیخوپور میں شعبہ عربی کے استاذ ہوگئے ساتھ میں حکمت بھی جاری تھی،فی الوقت اپنے وطن ہی میں

مدرسہ نسواں کے استاذ اور سرپرست ہیں،

مولانا انتہائی خلیق، متواضع اور درویش صفت ہیں، انہیں دیکھنے کے بعد اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ یہ جہاندیدہ عالم اور زبردست ادیب ہیں، سادگی اور اخلاص ان کی ذات کی شناخت بن چکی ہے۔


مولانا خالد صاحب سے میں نے پروگرام کی اطلاع دی جس پر وہ بہت خوش ہوئے چنانچہ میں اپنے دوست محمد اعظم خان کے ساتھ انہیں کی بائیک سے 26/2020/اگست کی سحر میں چار بجے شاہ گنج کے لئے روانہ ہوگیا، گاؤں سے باہر علم وادب کی دنیا کی عظیم شخصیت علامہ شبلی نعمانی کی شاہراہ پر آیا توغیر مسلم نوجوانوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی جوسڑک کے دونوں کناروں پر نیم عریاں ورزشی دوڑ میں سرگرم تھی،اس منظر نے مسلمانوں کی کاہلی اور اور ان کی عیش کوشیوں کی کربناک تصویر نگاہوں کے سامنے کردی، مسلمان  اس وقت پورے عالم کے علاوہ ہمارے ملک میں بھی پسماندگی کی انتہا پر ہیں اور ذلت وخواری کا رونا روتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پستی کے ذمہ دار وہ خود ہیں، اسلام نے سحر خیزی کے عمل کی ہدایت دی ہے'مگر اس وقت یہ قوم سوتی ہے'،جن کے پاس کسی دستور کا سرمایہ نہیں ہے'وہ اس وقت بیدار ہوکر صحت مند ی کی دولت حاصل کررہے ہیں،کس قدر عبرت ناک ہے'یہ منظر۔۔۔


گرمیوں میں سحر کا وقت بہت سہانا اور خوشگوار ہوتا ہے'ہلکی ہلکی نسیم جسم وجاں میں  سرور  ومستی کی کیفیت پیدا کررہی تھی، راستہ بالکل خالی اور فضا بہت خنک اور شفاف تھی،اسی عالم کیف میں ہم دونوں فرد معتدل رفتار سے رواں دواں تھے، ساڑھے سات بجے ہم اسلام آباد مولانا خالد کے یہاں پہونچ گئے، یہاں ان کے چھوٹے بھائی حافظ طارق،مولانا معاویہ اور ان کے بھانجے افضل اللہ سلمہ استقبال کے لئے موجود تھے، مولانا نے ناشتے کا پر تکلف انتظام کررکھا تھا مختلف قسم کی سبزیاں اور دوسری چیزیں تھوڑی دیر میں دسترخوان پر حاضر ہوگئیں فریش ہوکر اطمینان سے ناشتہ کیا گیا،اور آٹھ بجے مولانا کی فور ویلر گاڑی سے دوست پور کی طرف روانہ ہوگئے۔


اسلام آباد سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر قصبہ دوست پور جو ضلع سلطان پور ہی کا حصہ ہے کے قریب شیرخان پور کی بستی ہمارے دوست مولانا اسعد صاحب کا وطن ہے'، مولانا اسعد صاحب نے مدرسہ دوست پور میں عالمیت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے فضیلت حاصل کی ہے، گھر کے سارے افراد گوونڈی ممبئی میں طویل عرصے سے مقیم ہیں میرے ان سے تعلقات ممبئی سے ہی ہیں، لاک ڈاؤن میں ان کے اہل خانہ وطن آئے تھےاب دوتین روز میں ان کی واپسی تھی مولانا اسعد صاحب ہی کیوجہ سے اس سفر کا پروگرام اس قدر عجلت میں میں بنا ورنہ ارادہ دس بارہ روز بعد سفر کا تھا۔



مولانا اسعد قاسمی ابھی نوجوان ہیں،نہایت خوب رو،خوش مزاج اور بااخلاق ومخلص ہیں، ملنسار اور مجلسی ہیں، علمی و ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں،اچھے حافظ اور قاری بھی ہیں،ممبئی میں بہت دونوں تک ساکی ناکہ کے علاقے میں کی ایک مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں،فی الحال اندھیری کے علاقے میں ایک کمپنی میں عربی سے انگلش ٹرانسلیشن کی خدمت پر مامور ہیں، 


ساڑھے نو بجے مولانا اسعد صاحب کے دیار میں ہم داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ بلٹ پر سوار ہماری گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں سلام کے بعد ان کی رہنمائی میں گھر تک آئے، گھر کے باہری حصے میں مرصع چادر سے آراستہ بیڈ آرام کیلئے موجود تھا، اطمینان سے بے تکلف ہوکر دراز ہوگئے،تھوڑی دیر میں ان کے والد صاحب اور چھوٹے بھائی سے ملاقات ہوئی،ان کے والد بہت دلچسپ اور باغ وبہار آدمی ہیں،بہت فیاض اور مہمان نواز ہیں،چائے وغیرہ کے تھوڑی دیر بعد پر تکلف اور لذیذ قسم کا ناشتہ آیا اور سیر ہوکر کارواں کے ہر فرد نے کھایا ۔مولانا اسعد کا گاؤں صرف آٹھ دس گھروں پر مشتمل ہے،اور یہ ایک ہی خاندان کی شاخیں ہیں، چاروں طرف باغات اور سبزہ زاروں سے گھرا ہوا ہے،ناشتے کے بعد باغات کی سیر بھی ہوئی نارنگی کا جدید پھل بھی نظر آیا جو سائز اور وزن میں ایک ایک کلو کے برابر تھا متعدد پھلوں کو توڑ کر گاڑی میں بھی رکھا گیا۔پھر مولانا اسعد صاحب کے والد اور دیگر میزبان سے مصافحہ کرکے گیارہ بجے سلطان پور کی طرف نکل گئے ساتھ میں مولانا اسعد صاحب بھی تھے، 


راستے میں ہمارے اصل میزبان محترم عامل صاحب سے راستے کی رہنمائی کے سلسلے میں باتیں ہوتی رہیں اور مقررہ وقت کے مطابق آسانی سے ہم بارہ بجے شہر سلطان پور سے متصل پیارے پٹی پہونچ گئے،یہاں پہلے سے عامل صاحب روڈ پر ہی استقبال کے لئے موجود تھے ان کی رہنمائی میں مستقر تک آئے، گھر کے قریب ہی گاڑی سے اترے اور پرتپاک انداز اس شان سے مصافحہ اور معانقہ ہوا جیسے۔

           ملا ہو جیسے صدیوں بعد کوئی

 ہماری حاضری سے ان کے چہرے کی خوشی،اورپیشانی کی رونق بتار رہی تھی کہ عامل صاحب جس قدر لفظوں کی دنیا میں کردار کی بلندی پر نظر آرہے تھے اس سے کہیں زیادہ عمل اور حقیقت کی زمین پر وہ روشن ہیں، اور بلند ہیں،  بلکہ ان کے سلوک،ان کی محبت اور ان کی مہمان نوازی اور تواضع وخاکساری کو دیکھ کر اس اعتراف کے بغیر چارہ نہیں ہے کہ وہ شعر و  ادب کے ساتھ ساتھ مشرقی اقدار وروایات اور انسانیت کے بھی نمائندہ ہیں، ان کی شخصیت شیریں گفتار، زندہ دل، انسانیت نواز اور محبت و شرافت کا خوبصورت پیکر ہے۔ ان کا مکان قدیم ہے مگر بالکل کشادہ ،مہمان خانے میں سلیقے رکھی ہوئی کرسیوں پر ہم نے  اپنی جگہیں سنبھال لیں،‌ناشتہ اور چائے سے جسم کی پیاس بجھائی گئی، اس دوران والہانہ انداز میں گفتگو بھی جاری تھی، نماز کا وقت ہوا تو شہر کی بلال مسجد میں نماز ادا کی گئی،یہ مسجد شہر کی نہایت وسیع مسجد ہے'، اس خطے میں اتنی بڑی مسجد شاید نہیں ہے'، بہت عالی شان،اور مضبوط ہے'لطف کی بات ہے'کہ یہ عامل صدیقی صاحب ہی کوششوں اور جد وجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے،اور تادم تحریر اس کے متولی بھی یہی ہیں،اس سے ان کے اسلامی مزاج اور شریعت سے دلچسپی ومحبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

نماز کے بعد مشہور ڈش عمدہ قسم کی بریانی اور رائتہ وغیرہ کا دور چلا، جسے سارے رفقاء نے شوق سے کھایا،کچھ کھانے کی عمدگی اور کچھ میزبان کے خلوص نے اس کی لذت میں اضافہ کردیا طبیعت سیر ہوگئی۔


محترم عامل صدیقی صاحب اردو زبان سے جنون کی حد تک عشق رکھتے ہیں،اس کی ترویج و حفاظت کے لئے انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ہی دوسرا گھر جو ان کے خاندان کا ہے، اور بہت قدیم ہے اور آرام دہ ہے'،وضع اور ساخت میں لکھنوی طرز اور نوابی شان جھلکتی ہے، اہل خانہ دوسرے مقام پر رہائش پذیر ہیں اس لیے اسی گھر کو انھوں نے شعری نشست گاہ بنا لیا ہے اور وقتاً فوقتاً وہ اہل ادب اور علاقائی شعرا کو یہاں مدعو کرتے ہیں اور اس مکان کے وسیع لان میں کبھی مصرع طرح اور کبھی آزاد مشاعرہ منعقد کرتے ہیں، آج جب انہیں معلوم ہوا کہ میں آرہا ہوں تو انہوں نے محض محبت اور حسن ظن کی بنیاد پر اہل تعلق شعرا واستاذ الشعرا میں میری تعریفوں کے پل باندھ کر انہیں یہاں تشریف لانے پر مجبور کردیا، اور ناچیز کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد کردیا، ظہر کے بعد سب سے پہلے عالی جناب محترم حبیب اجملی صاحب تشریف لائے پرجوش انداز میں سلام ومصافحہ ہوا، 


محترم حبیب اجملی صاحب شعر وسخن کی دنیا کے تاجور شہرہ آفاق شاعر اجمل سلطان پوری کے صاحبزادے ہیں اردو شاعری سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی ہو جو ان کے نام سے ناواقف ہو، اجمل صاحب مرحوم کی وطن کی محبت پر لکھی ہوئی نظم،،کہاں ہے میرا ہندوستان،میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں، نے پورے ملک میں لوگوں کو  وطن کی عظمت سے سرشار کردیا، حبیب اجملی صاحب اپنے والد مکرم کے شعری سرمایہ کے امین اور ان کی فکر ونظر کے پاسدار ہیں، انہیں کی طرح برجستہ غزل کہتے ہیں، پیشے سے استاذ اور کالج کے ٹیچر  ہیں مگر تدریسی مصروفیات کے ساتھ ساتھ شعر وسخن کی سرگرمیاں بھی ہمیشہ سے جاری رہیں،ان کی عمر کا کارواں پچپن سے ساٹھ کے درمیان ہے'مگر فن ہے کہ ہر قدم اس کا عروج پر ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ انہائی ملنسار،متواضع اور زندہ دل ہیں، شاعرانہ طبیعت کے باوجود مزاج دینی اور اسلامی ہے،  ادب نواز کے ساتھ علماء نواز ہیں، ان سے ملاقات کے بعد دل نے گواہی دی کہ واقعی یہ شخص کس قدر عظیم ہے ،


کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جناب عامل صاحب اور ان کے رفیق محترم حبیب صاحب کے ساتھ دوسرے مکان کے وسیع کمرے میں ہم لوگ حاضر ہوگئے، یہ ہال جدید سہولتوں سے آراستہ ہے، چاروں طرف کرسیاں اور صوفے ہیں درمیان میں ناشتے کے لوازمات سے سجی ہوئی میز،

یہیں دوسرے شعراء تشریف لائے ہر ایک سے سلام ومصافحہ ہوا، تبادلہ خیال کے بعد ہمارے میزبان عامل صدیقی صاحب کی نظامت میں محفل کا آغاز ہوا اور سب سے پہلے محترم غفران صاحب کو دعوت سخن دی گئی

غفران صاحب نے دوغزلیں ترنم سے سنائیں، جس قدر کلام معنیٰ آفرینی اور شعریت سے پر تھا اسی طرح ان  کی آواز کا زیروبم اور لہجہ بھی مسحور کن تھا، حیرت ہوئی کہ یہاں ایسے ایسے گوہر نایاب گمنامی میں ادب کی خدمت کررہے ہیں، ان کے کلام میں برجستگی کے ساتھ اشعار کے تمام محاسن موجود تھے، جو دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے، غفران صاحب ایک اسکول میں ٹیچر ہیں تدریسی خدمات کے ساتھ اہتمام سے مشق سخن بھی جاری ہے،


ان کے بعد ناظم صاحب نے دوسرے شاعر الف سین قادری صاحب کو آواز دی انہوں نے تحت اللفظ اشعار سنائے ہر شعر ان کے شعری شعور کا ترجمان اور  قلب وذہن میں نشاط پیدا کرنے والا تھا سامعین کی بے ساختہ داد وتحسین میں انھوں نے کھل کر دوغزلیں شاعرانہ لب ولہجہ میں پیش کیں، ان کی غزلوں کو سن کر اندازہ ہوا کہ ان کا تخیل بہت بلند اور ان کی فکر بہت گہری ہے، اپنے کلام سے انھوں نے فن کی دسترس کا ذہن  و دل پر خوبصورت نقش چھوڑدیا، الف سین قادری صاحب ابھی بالکل جوان ہیں، چہرہ کشادہ وسیع فکر کا غماز،اور شرافت کا آئینہ، 


قادری صاحب کے بعد ناظم مشاعرہ نے شعری دنیا کی عظیم شخصیت کو دعوت سخن دی اور تعارفی خاکہ بھی پیش کیا۔

جناب وجہ القمر صاحب زبردست شاعر ہیں، ان کے تخیل کی بلند پروازی فلک رسا ہے ان کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے زندگی کے عنوان پر گیارہ سو اشعار کہ ڈالے ہیں اور دل کے عنوان پر آٹھ سو، علم و ادب کی دنیا میں ماضی سے حال تک یہ حیرت انگیز کارنامے سے کم نہیں ہے' زندگی کے نام سے ان کا شعری مجموعہ بھی یوپی حکومت کے تعاون سے منظر عام پر آچکا ہے، وجہ القمر صاحب انتہائی زود گو اور قادر الکلام استاذ شاعر ہیں، عمر کے لحاظ سے ساٹھ سے ستر کے پیٹے میں ہوں گے، جسم کے اعتبار سے نحیف مگر حوصلے جوان اور فکر ونظر شباب کی منزلوں پر اب بھی ہے، تاہم جس قدر وہ فن کے لحاظ سے بلند ہیں اسی قدر عمل کی دنیا میں انتہائی متواضع، 

شہرتوں سے کوسوں دور اور خرد نواز ہیں،انھوں نے بڑی محبت اور شفقت کا ثبوت دیا جو دل پر نقش ہے'، اعظم گڈھ کا دیار ان کے لئے کبھی اجنبی نہیں رہا ان کے اسفار علمی حوالے برابر ہوتے رہتے ہیں،انھوں نے ہمیں رفقاء سفر کو اپنا شعری مجموعہ بھی عنایت فرمایا۔ وجہ القمر صاحب نے بھی شاندار قسم دوغزلوں سے نوازا، جس میں شعریت کے علاوہ حالات کی منظر نگاری بھی تھی اور رومانی جہان بھی۔

محفل پورے شباب پر تھی اور حاضرین عالم کیف میں تھے

عامل صدیقی صاحب نے پھر ایک نوجوان شاعر محترم لئیق اثر صاحب کو دعوت سخن دی لئیق اثر صاحب نے اپنی غزلوں سے نشست کو مزید بلندیاں عطا کیں، ایک سے ایک  خوبصورت اشعار سے سماعتیں محظوظ ہورہی تھیں، ان کے کلام نے بھی اس راز سے پردہ اٹھایا کہ وہ عمدہ اور گہرے مشاہدے اور اظہار بیان کی قدرت رکھنے والے شاعر ہیں، ان کے ترنم نے شعر وں میں مزید جان پیدا کردی، اور سامعین بے خود سے ہوگئے،ان کے اشعار کے حسن وجمال اور ترنم ریزی نے لوح قلب پر بڑا خوبصورت نقش قائم کیا۔


لئیق صاحب کے بعد اب صدر محفل  واجب التعظیم حبیب اجملی صاحب کے کلام سے ہمیں لطف اندوز ہونا تھا مگر اسی دوران رفقاء کے درمیان سازشیں ہوئیں اور ناظم صاحب کے پاس رقعہ پہونچ گیا کہ میں بھی ترنم سے غزل اور نعت پڑھتا ہوں،حالانکہ یہ چیز ماضی کی سرنگوں میں کہیں گم ہوچکی ہے' اچانک عامل صاحب نے ہمارا نام بھی پڑھنے کے لئے پکارا،میں تو حیرت زدہ رہ گیا،پہلے سے بالکل تیاری نہیں تھی معذرت کی لیکن نامنظور،مجبور ہوکر حق کانپوری کی ایک غزل کے چند مصرعے نذر کئے حاضرین نے بڑی محبت اور دلچسپی سے سنا اور بڑے والہانہ انداز میں تحسین سے نوازا۔


آخر میں محفل سخن کی آخری کڑی کشور سخن کے حکمراں محترم حبیب اجملی صاحب کو بڑے ادب سے دعوت سخن دی گئی، اور وہ مکمل کیف و مستی کے عالم میں غزل سرا ہوئے،

ہر شعر ان کے استادانہ فن کی ترجمانی کررہاتھا،دوغزلیں مسلسل انھوں نے سنا کر محفل کو عروج پر پہونچا دیا، طبیعت جھوم اٹھی،ہر طرف نشاط ہی نشاط تھا، اجملی صاحب کے کلام میں برجستگی ورعنائی بھی ہے'اور سلاست روانی بھی، معنیٰ آفرینی بھی ہے اور مشاہدات و تجربات کی گہرائی بھی، فن کی عظمت بھی اس میں ہویدا ہے'اور زبان وبیان کا حسن بھی،حالات حاضرہ کی منظر کشی بھی ہے اور واردات قلب کی داستان بھی،

غموں کی لہریں بھی ہیں اور غزل کی رنگینیاں بھی۔



حبیب صاحب اس عہد میں شعری دنیا کے عظیم سرمایہ ہیں،وہ قادر الکلام اور عہد حاضر کے ترجمان سخنور ہیں، قریب ہی ایک کالج کے ٹیچر ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ

شعر و سخن کی زلف پریشاں کو سنوارنے کا عمل بھی آغاز شباب سے جاری ہے'اس وقت انھوں نے اپنے والد اجمل سلطان پوری کا شعری مجموعہ،،قفس تا قفس،، کےنام سے شائع کرکے شاعری کی دنیا میں خوبصورت سرمایہ کا اضافہ کیا ہے'خود ان کا شعری مجموعہ، الفاظ کے غبار میں،،منظر عام پر آچکا ہے'،اس سے ان کی ادبی سرگرمیوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے'، انھوں نے ازراہ محبت مذکورہ دونوں مجموعے ناچیز کو عنایت کئے، حبیب صاحب بہت زندہ دل اور باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیں ان کی موجودگی سے محفل قہقہ زار اور زعفران زار بن جاتی ہے ،انھوں نے پروگرام کے بعد کئی مزاحیہ  واقعات سنا کر مجلس کو شوخ فضا میں بدل دیا۔


آخر میں ہمارے میزبان محترم عامل صدیقی کے حکم سے ہم نے تاثرات کا اظہار کیا اور عرض کیا ہے'ملک بھر روایتی اسٹیج کے مشہور مشاعروں کے مقابلے میں حقیقتاً اردو کی خدمت انہیں مختصر اور گمنام محفلوں سے ہورہی ہے'جس میں مادیت اور خود غرضی کا کہیں گذر نہیں ہے،جہاں صرف اردو زبان کی محبت ہے،اس کے تحفظ کی فکر ہے'،اس کی اشاعت کی تڑپ ہے، اخلاص ووفا ہے، صداقت کی روشنی اور سچائی کے اجالے ہیں۔


قوم کی یہ بدمذاقی ہے'کہ جنہیں شاعری کا ذرا بھی شعور نہیں ہے'اور بے مقصد تک بندیوں سے سستی شہرت حاصل کرکے لاکھوں کی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور انتظامیہ سے اصول لیتے ہیں انہیں سر پر بٹھاتی ہے۔اور اس طرح خاموشی سے ادب کی خدمت کرنے والوں سے بے اعتنائی کرتی ہے'۔اس تاریخی نشست کا اختتام میری تلاوت سے ہوا،پھر چائے ناشتے کا دور چلا، چار بج چکے تھے، دل تو چاہ رہا تھا ابھی کچھ اور وقت اس کہکشاں میں گذارا جائے مگر وقت تنگ تھا اس لیے بادل ناخواستہ ہم نے رخصت کی اجازت چاہی، احباب کی بھی شکایت تھی کہ ہم نے انہیں وقت نہیں دیا،بہرحال آئیندہ کی ملاقات کا وعدہ کرکے علم و ادب اور اخلاق وکردار کی خوبصورت یادوں کے ساتھ پیارے پٹی کے اس ادبی محلے سے ہم رخصت ہوئے،آبادی سے باہر عامل صاحب چھوڑنے آئے، 


تھوڑی دیر کے بعد ہم محو گفتگو تھے کہ اچانک گاڑی کے سائڈ کے دونوں پہئے سڑک سے نیچے اتر گئے،ایک لمحے کے لیے بد حواسی سی چھائی،فورا اہل محلہ حاضر ہوگئے،ہمارے پیچھے غفران صاحب بھی بائیک سے آرہے تھے فورا انہوں نے عامل صاحب کو فون کردیا وہ بھی آگئے اب بیسیوں نوجوان جمع ہوکر اس گاڑی کو ہی اٹھا دیا اس طرح یہ بڑا مسئلہ حل ہوگیا، نوجوانوں کی محنت،اور جد وجہد نیز ان کے بغیر کہے ہوئے فورا تعاون سے اندازہ ہوا کہ یہاں ابھی اخوت ومحبت زندہ ہے'،اتحاد وہمدردی کی خوبصورت فضا باقی ہے'،ورنہ  اس مادی اور خود غرض دور میں یہ چیز بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں پھر سارے لوگوں سے سلام کے بعد روانہ ہوئے غفران بھائی مین روڈ تک آئے،الوداعی مصافحہ ہوا اور پھر ہم دوست پور کے لئے واپس ہوگئے،مولانا اسعد صاحب کو ان کے گھر چھوڑ کر کر مغرب کے بعد اسلام آباد آئے، یہاں عشاء کی نماز پڑھ کر کھانا کھایا ،پھر مولانا خالد کے مدرسے کی زمین کا معائینہ کیا،جسم تھک چکا تھا، اس لیے جلدی سو گئے صبح فجر کی نماز بعد ناشتے سے فارغ ہو کر اعظم بھائی کے ساتھ واپس ہوئے اور دس بجے منزل پر پہونچے۔


شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

شیخوپور اعظم گڈھ

Comments

Popular posts from this blog

تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے آہ۔۔۔۔۔۔۔مولانا ابن الحسن عباسی شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے جمہوریت کا قتل شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ شرف الدین عظیم الاعظمی