نام کتاب۔۔۔خطبات اعجاز جلد دوم خطیب۔۔۔سلطان القلم۔حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رح مرتب و مدون۔۔مولانا محمد اشہد قاسمی اعظمی
نام کتاب۔۔۔خطبات اعجاز جلد دوم
خطیب۔۔۔سلطان القلم۔حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رح
مرتب و مدون۔۔مولانا محمد اشہد قاسمی اعظمی
ناشر۔۔۔مدرسہ عربیہ سعیدیہ اشرف العلوم مصطفی ایجوکیشنل سوسائٹی مہراج گنج گورکھپور
قیمت۔۔۔۔۔۔درج نہیں
صفحات۔۔۔۔۔۔224
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
فکر دیوبند کے سرخیل شاہراہ حریت کے قافلہ سالار حضرت مولانا محمود حسن صاحب نور اللہ مرقدہ جزیرہ مالٹا کی چار سالہ اسیری کے بعد جب دار العلوم دیوبند تشریف لائے تو اس وقت علماء طلباء اور دانشورانِ ملت کے مجمع میں عشاء کے بعد ارشاد فرمایا کہ،،ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں پہلا سبق یہ کہ میں نے جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی و دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں اس کے دو سبب معلوم ہوئے ایک ان کا قران کو چھوڑ دینا دوسرے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لےکر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن کریم کو لفظا اور معنا عام کیا جائے بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کئے جائیں بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے،،
ملت اسلامیہ ہند کا ایک ایسا فرزند جس کی روح میں
علمائے اسلام اور اسلاف دیوبند کی الفت وعقیدت پیوست ہو، ان کے منہج کے مطابق جس کا ایک اک لمحہ بسر ہورہا ہو ۔ممکن نہیں تھا کہ مذکورہ ارشاد ان کی نگاہوں سے مخفی ہو، شاید اسی کا اثر تھا کہ حضرت مولانا اعظمی کے قلب میں عشق رسول کے ساتھ ساتھ بچپن ہی سے قرآن کریم سے دلچسپی اس کی تلاوت سے شغف،اس کے معانی و مفاہیم سے رغبت رچی بسی تھی، یہی وجہ تھی کہ مکتبی تعلیم کے بعد فارسی کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی جب تک ان کے استاذ مولانا عبد الستار صاحب بھیروی درس کے لئے تشریف لاتے اس وقت تک ان کے طاق پر رکھی ہوئی حضرت شیخ الہند ہی کے ترجمہ قرآن پر علامہ شبیر عثمانی کی تفسیر کا اچھا خاصا مطالعہ کرلیتے ،وقت کے ساتھ یہی شوق تڑپ میں بدل گیا اور قرآنی پیغام کی اشاعت کے جذبات بیکراں کے تحت دوران تعلیم اور فراغت کے بعد بھی آپ اپنے ہم عصر ساتھیوں اور گاؤں کے نوجوانوں کو تفسیر کا درس دیا کرتے تھے
قرآن کریم سے بے پناہ تعلق ہی کا نتیجہ تھا کہ فراغت کے بعد صرف چار مہینے میں آپ نے حفظ کی تکمیل کرلی،
درس قرآن کا سلسلہ آپ کی زندگی میں تقریباً برابر جاری رہا، جلالین یا مطلق ترجمہ قرآن وتفسیر کی صورت میں طلباء کی درسگاہوں میں، اپنے تبلیغی دوروں واصلاحی اسفار میں، رمضان المبارک کے مہینے میں تراویح کے بعد آپ جہاں بھی رہے یہ سرگرمیاں ساتھ ساتھ تھیں،
اس سلسلے کی سب سے طویل اور منظم ومستحکم خدمت جامع مسجد اعظم گڑھ میں درس قرآن کی ہے' شہر کی یہ مرکزی مسجد ہے'جو بڑی عالیشان اور وسیع وعریض ہے'اور شہر کے قلب میں واقع ہے شاید یہی وجہ تھی کہ ایک عرصہ قبل حضرت مولانا سید سلیمان ندوی علیہ الرحمہ کے زمانے میں حضرت مولانا اویس ندوی نگرامی نے درس قرآن کی طرح ڈالی مگر ان کے اعظم گڈھ سے چلے جانے کے بعد یہ سلسلہ بند ہوا تو 1990تک یہ مسند پر کسی مفسر قرآن سے پر نہ ہوسکی چونکہ یہاں مصلیوں کی خاصی تعداد عصری علوم کی حامل تھی'جو عموماً شبلی نیشنل کالج سے متعلق ہوتے تھے اس لیے اسلامی تعلیمات سے انہیں روشناس کرانے کے لئے ضرورت تھی کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے 1990میں جمعیت علماء کی میٹینگ میں یہاں کے امام بابو عزیز الرحمن صاحب مرحوم نے اس احساس کا اظہار کیا حضرت مولانا عبدالرب صاحب جہانا گنج نے حضرت مولانا مرحوم کا نام پیش کیا اور حاضرین کے اتفاق رائے سے آپ نے ہر اتوار کو بعد نمازِ مغرب درس قرآن شروع کیا جس شہر کے عام افراد کے علاوہ زعمائے شہر بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی تھی جن میں طلباء علوم دینیہ بھی ہوتے علما بھی، اسکولوں کے ٹیچرز بھی ہوتے لکچررز بھی، اسکالر ودانشور بھی ہوتے اور ڈاکٹر وانجینیر بھی،سیاسی گلیاروں کے سورما بھی ہوتے اور سوشل وسماجی ورکرز بھی۔درس قرآن کا یہ سلسلہ پابندی سے 22سال تک مسلسل چلتا رہا اب کون جانتا ہے کہ کتنے لوگوں نے اس روشنی سے فیض اٹھایا، کتنے افراد کے اندھیرے قلب میں روحانیت کا اجالا پھیلا، شکوک وشبہات کی خارزار راہوں میں لہو لہو کتنے افکار ونظریات کو صحیح سمت سفر میسر ہوئی،کتنے اذہان توحید سے آشنا ہوئے اور کتنی بے کیف زندگیاں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہوئیں۔اس کا اندازہ کیسے اور کیونکر لگایا جائے،
زیر نظر کتاب درحقیقت انہیں دروس قرآن کی تصویر ہے وہ شخصتیں علم وتحقیق اور احسان وتزکیہ جن کی شناخت ہوتی ہے' اور پوری زندگی جن کی وادی قلب میں علم وادب اور احسان ومعرفت کے قافلے ہمیشہ اترتے ہیں' ان کی گفتگو ان کی مجلسیں ان مواعظ اور ان کی تحقیقات کی اہمیت اور ان کی عظمت کا تقاضا ہے کہ انہیں تحریر میں قید کر لیا جائے تاکہ ان کے فیضان کا دائرہ وسیع تر ہوجائے،
لیکن بدقسمتی سے آپ کے ان دروس کا زیادہ تر حصہ محفوظ نہ رہ سکا کچھ آپ کی بے نیازانہ طبیعت اور کچھ ارادت مندوں کی کوتاہی کے باعث اس کی طرف توجہ نہ ہوسکی اخیر زمانے میں کچھ اہتمام ہوا جس کی وجہ سے کچھ دروس محفوظ ہوگئے ضرورت تھی کہ انہیں کتابی شکل میں محفوظ کردیا جائے تاکہ ماضی کی طرح یہ گرانمایہ علمی اثاثے ضائع ہونے سے بچ جائیں اور لوگوں کی رہنمائی اور تزکیہ کا سبب بن جائیں،
حضرت والا کے انتہائی زیرک ہوشمند اور باصلاحیت صاحبزادے گرامی قدر برادر مکرم مولانا عرفات صاحب اعظمی کو اس کا شدت سے احساس تھا اس سے پہلے انہیں کی جد وجہد سے مولانا اعظمی کی متعدد اہم تحریروں کے علاوہ اس کتاب کا بھی پہلا حصہ زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکا ہے' یہ مجموعہ بھی انہیں کی کوشش کا نتیجہ ہے جسے رفیق محترم مولانا محمد اشہد اعظمی نے صوتی الفاظ کو حروف میں منتقل کرکے ان تمام علماء و اہل قلم کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا جو کسی نہ کسی لحاظ سے چشمۂ اعجاز سے مستفیض ہوئے ہیں'،
اس مجموعہ میں کل بارہ مجلسوں کے دروس ہیں اور تمام سورہ احزاب کے ہیں امت مسلمہ کی زبوں حالی اس کی ناگفتہ بہ حالات،ملکی سیاسی معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی پستیوں اور عقیدہ وعمل کے لحاظ سے ان کے بگاڑ وفساد سے متعلق اس سورت میں بڑی واضح اور روشن رہنمائی موجود ہے اس اعتبار سے یہ درس انتہائی قیمتی اور انسانی کردار وعمل کی تزئین و تہذیب کے لئے تاریکیوں میں مشعل، صحرا میں نشان راہ اور منجدھار میں ساحل کی حیثیت رکھتا ہے،
جس میں مومن ومنافق کے رویوں، اہل ایمان کے نمونے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی ایمانی اخلاقی حالت،نکاح کے اثرات اس کے احکامات،ختم نبوت،ایمان کے معتبر وغیر معتبر ہونے کے معیار وشرائط،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ صفات، آپ ص کی خصوصیات،درود شریف کی فضیلت وبرکت،جزا وسزا کے متعلق صحیح عقیدہ ونظریات،کے مرکزی عناوین کے تحت بے شمار احادیث بھی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں اور اسلاف کے حوصلہ افزا واقعات بھی، اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سبق آموز حکایات بھی دلوں کو روشن کرتی ہیں اور ان کی زندگی کے تجربات و مشاہدات سے بھی دل کے روزن کھلتے ہیں،
حاصل یہ کہ 224صفحات پر مشتمل دلوں میں ایمانی حرارت پیدا کرنے والے خطبات کے اس مجموعے کا مطالعہ آپ کا تھوڑا سا وقت ضرور لے گا مگر اس کے بدلے آپ کو علم کا سرمایہ، معرفت الہی کا اثاثہ، تحقیقات کا تحفہ،اوربہت کچھ اس کے علاوہ دے جائے گا،
یہ کتاب۔مولانا اعجاز احمد اعظمی لائیبریری۔چھپرا چریا کوٹ ضلع مئو،یوپی
مکتبہ ضیاءالکتب خیرآباد محلہ اتراری ضلع مئو
مفتی روح اللہ فلاح المسلمین گوا پوکھر مدہوبنی بہار
اعظمی کتاب گھر مدرسہ تعلیم الاسلام جامع مسجد اعظم گڈھ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
خطیب۔۔۔سلطان القلم۔حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رح
مرتب و مدون۔۔مولانا محمد اشہد قاسمی اعظمی
ناشر۔۔۔مدرسہ عربیہ سعیدیہ اشرف العلوم مصطفی ایجوکیشنل سوسائٹی مہراج گنج گورکھپور
قیمت۔۔۔۔۔۔درج نہیں
صفحات۔۔۔۔۔۔224
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
فکر دیوبند کے سرخیل شاہراہ حریت کے قافلہ سالار حضرت مولانا محمود حسن صاحب نور اللہ مرقدہ جزیرہ مالٹا کی چار سالہ اسیری کے بعد جب دار العلوم دیوبند تشریف لائے تو اس وقت علماء طلباء اور دانشورانِ ملت کے مجمع میں عشاء کے بعد ارشاد فرمایا کہ،،ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں پہلا سبق یہ کہ میں نے جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی و دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں اس کے دو سبب معلوم ہوئے ایک ان کا قران کو چھوڑ دینا دوسرے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لےکر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن کریم کو لفظا اور معنا عام کیا جائے بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کئے جائیں بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے،،
ملت اسلامیہ ہند کا ایک ایسا فرزند جس کی روح میں
علمائے اسلام اور اسلاف دیوبند کی الفت وعقیدت پیوست ہو، ان کے منہج کے مطابق جس کا ایک اک لمحہ بسر ہورہا ہو ۔ممکن نہیں تھا کہ مذکورہ ارشاد ان کی نگاہوں سے مخفی ہو، شاید اسی کا اثر تھا کہ حضرت مولانا اعظمی کے قلب میں عشق رسول کے ساتھ ساتھ بچپن ہی سے قرآن کریم سے دلچسپی اس کی تلاوت سے شغف،اس کے معانی و مفاہیم سے رغبت رچی بسی تھی، یہی وجہ تھی کہ مکتبی تعلیم کے بعد فارسی کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی جب تک ان کے استاذ مولانا عبد الستار صاحب بھیروی درس کے لئے تشریف لاتے اس وقت تک ان کے طاق پر رکھی ہوئی حضرت شیخ الہند ہی کے ترجمہ قرآن پر علامہ شبیر عثمانی کی تفسیر کا اچھا خاصا مطالعہ کرلیتے ،وقت کے ساتھ یہی شوق تڑپ میں بدل گیا اور قرآنی پیغام کی اشاعت کے جذبات بیکراں کے تحت دوران تعلیم اور فراغت کے بعد بھی آپ اپنے ہم عصر ساتھیوں اور گاؤں کے نوجوانوں کو تفسیر کا درس دیا کرتے تھے
قرآن کریم سے بے پناہ تعلق ہی کا نتیجہ تھا کہ فراغت کے بعد صرف چار مہینے میں آپ نے حفظ کی تکمیل کرلی،
درس قرآن کا سلسلہ آپ کی زندگی میں تقریباً برابر جاری رہا، جلالین یا مطلق ترجمہ قرآن وتفسیر کی صورت میں طلباء کی درسگاہوں میں، اپنے تبلیغی دوروں واصلاحی اسفار میں، رمضان المبارک کے مہینے میں تراویح کے بعد آپ جہاں بھی رہے یہ سرگرمیاں ساتھ ساتھ تھیں،
اس سلسلے کی سب سے طویل اور منظم ومستحکم خدمت جامع مسجد اعظم گڑھ میں درس قرآن کی ہے' شہر کی یہ مرکزی مسجد ہے'جو بڑی عالیشان اور وسیع وعریض ہے'اور شہر کے قلب میں واقع ہے شاید یہی وجہ تھی کہ ایک عرصہ قبل حضرت مولانا سید سلیمان ندوی علیہ الرحمہ کے زمانے میں حضرت مولانا اویس ندوی نگرامی نے درس قرآن کی طرح ڈالی مگر ان کے اعظم گڈھ سے چلے جانے کے بعد یہ سلسلہ بند ہوا تو 1990تک یہ مسند پر کسی مفسر قرآن سے پر نہ ہوسکی چونکہ یہاں مصلیوں کی خاصی تعداد عصری علوم کی حامل تھی'جو عموماً شبلی نیشنل کالج سے متعلق ہوتے تھے اس لیے اسلامی تعلیمات سے انہیں روشناس کرانے کے لئے ضرورت تھی کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے 1990میں جمعیت علماء کی میٹینگ میں یہاں کے امام بابو عزیز الرحمن صاحب مرحوم نے اس احساس کا اظہار کیا حضرت مولانا عبدالرب صاحب جہانا گنج نے حضرت مولانا مرحوم کا نام پیش کیا اور حاضرین کے اتفاق رائے سے آپ نے ہر اتوار کو بعد نمازِ مغرب درس قرآن شروع کیا جس شہر کے عام افراد کے علاوہ زعمائے شہر بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی تھی جن میں طلباء علوم دینیہ بھی ہوتے علما بھی، اسکولوں کے ٹیچرز بھی ہوتے لکچررز بھی، اسکالر ودانشور بھی ہوتے اور ڈاکٹر وانجینیر بھی،سیاسی گلیاروں کے سورما بھی ہوتے اور سوشل وسماجی ورکرز بھی۔درس قرآن کا یہ سلسلہ پابندی سے 22سال تک مسلسل چلتا رہا اب کون جانتا ہے کہ کتنے لوگوں نے اس روشنی سے فیض اٹھایا، کتنے افراد کے اندھیرے قلب میں روحانیت کا اجالا پھیلا، شکوک وشبہات کی خارزار راہوں میں لہو لہو کتنے افکار ونظریات کو صحیح سمت سفر میسر ہوئی،کتنے اذہان توحید سے آشنا ہوئے اور کتنی بے کیف زندگیاں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہوئیں۔اس کا اندازہ کیسے اور کیونکر لگایا جائے،
زیر نظر کتاب درحقیقت انہیں دروس قرآن کی تصویر ہے وہ شخصتیں علم وتحقیق اور احسان وتزکیہ جن کی شناخت ہوتی ہے' اور پوری زندگی جن کی وادی قلب میں علم وادب اور احسان ومعرفت کے قافلے ہمیشہ اترتے ہیں' ان کی گفتگو ان کی مجلسیں ان مواعظ اور ان کی تحقیقات کی اہمیت اور ان کی عظمت کا تقاضا ہے کہ انہیں تحریر میں قید کر لیا جائے تاکہ ان کے فیضان کا دائرہ وسیع تر ہوجائے،
لیکن بدقسمتی سے آپ کے ان دروس کا زیادہ تر حصہ محفوظ نہ رہ سکا کچھ آپ کی بے نیازانہ طبیعت اور کچھ ارادت مندوں کی کوتاہی کے باعث اس کی طرف توجہ نہ ہوسکی اخیر زمانے میں کچھ اہتمام ہوا جس کی وجہ سے کچھ دروس محفوظ ہوگئے ضرورت تھی کہ انہیں کتابی شکل میں محفوظ کردیا جائے تاکہ ماضی کی طرح یہ گرانمایہ علمی اثاثے ضائع ہونے سے بچ جائیں اور لوگوں کی رہنمائی اور تزکیہ کا سبب بن جائیں،
حضرت والا کے انتہائی زیرک ہوشمند اور باصلاحیت صاحبزادے گرامی قدر برادر مکرم مولانا عرفات صاحب اعظمی کو اس کا شدت سے احساس تھا اس سے پہلے انہیں کی جد وجہد سے مولانا اعظمی کی متعدد اہم تحریروں کے علاوہ اس کتاب کا بھی پہلا حصہ زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکا ہے' یہ مجموعہ بھی انہیں کی کوشش کا نتیجہ ہے جسے رفیق محترم مولانا محمد اشہد اعظمی نے صوتی الفاظ کو حروف میں منتقل کرکے ان تمام علماء و اہل قلم کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا جو کسی نہ کسی لحاظ سے چشمۂ اعجاز سے مستفیض ہوئے ہیں'،
اس مجموعہ میں کل بارہ مجلسوں کے دروس ہیں اور تمام سورہ احزاب کے ہیں امت مسلمہ کی زبوں حالی اس کی ناگفتہ بہ حالات،ملکی سیاسی معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی پستیوں اور عقیدہ وعمل کے لحاظ سے ان کے بگاڑ وفساد سے متعلق اس سورت میں بڑی واضح اور روشن رہنمائی موجود ہے اس اعتبار سے یہ درس انتہائی قیمتی اور انسانی کردار وعمل کی تزئین و تہذیب کے لئے تاریکیوں میں مشعل، صحرا میں نشان راہ اور منجدھار میں ساحل کی حیثیت رکھتا ہے،
جس میں مومن ومنافق کے رویوں، اہل ایمان کے نمونے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی ایمانی اخلاقی حالت،نکاح کے اثرات اس کے احکامات،ختم نبوت،ایمان کے معتبر وغیر معتبر ہونے کے معیار وشرائط،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ صفات، آپ ص کی خصوصیات،درود شریف کی فضیلت وبرکت،جزا وسزا کے متعلق صحیح عقیدہ ونظریات،کے مرکزی عناوین کے تحت بے شمار احادیث بھی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں اور اسلاف کے حوصلہ افزا واقعات بھی، اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سبق آموز حکایات بھی دلوں کو روشن کرتی ہیں اور ان کی زندگی کے تجربات و مشاہدات سے بھی دل کے روزن کھلتے ہیں،
حاصل یہ کہ 224صفحات پر مشتمل دلوں میں ایمانی حرارت پیدا کرنے والے خطبات کے اس مجموعے کا مطالعہ آپ کا تھوڑا سا وقت ضرور لے گا مگر اس کے بدلے آپ کو علم کا سرمایہ، معرفت الہی کا اثاثہ، تحقیقات کا تحفہ،اوربہت کچھ اس کے علاوہ دے جائے گا،
یہ کتاب۔مولانا اعجاز احمد اعظمی لائیبریری۔چھپرا چریا کوٹ ضلع مئو،یوپی
مکتبہ ضیاءالکتب خیرآباد محلہ اتراری ضلع مئو
مفتی روح اللہ فلاح المسلمین گوا پوکھر مدہوبنی بہار
اعظمی کتاب گھر مدرسہ تعلیم الاسلام جامع مسجد اعظم گڈھ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی

Comments
Post a Comment