مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی مسجد انوار شیواجی نگر ممبئی 8767438283
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی مسجد انوار
شیواجی نگر ممبئی 8767438283
روئے زمین پر ہر دور میں علم و عمل اور اخلاق وکردار کی تاریخ رقم کرنے والا ایک کارواں زندگی کے اہم نصب العین کی طرف محو سفر رہا، وہ جہاں جہاں سے گذرا ،انسانیت کے خشک کھیتوں،اور صحرا وبیابان کو سیراب کرتا گیا، اس نے کہیں علم کے چراغ روشن کئے،کہیں فکر ونظر کے دیپ جلائے، کہیں اخلاق وکردار کو زندگی عطا کی،کہیں توحید ورسالت کی قندیل فروزاں کی اور کہیں بیکراں فضاؤں میں پھیلی ہوئی تاریکیوں کا سینہ، انسانیت ،اخوت ،محبت اور الفت ومعرفت کی تیز شعاعوں سے چاک کرکے وقت وزمانے کی پیشانیوں پر عزم واستقلال اور جہد مسلسل کی داستان رقم کردی۔
علمی وتحقیقی اور فکری و نظریاتی دنیا کی نہایت روشن،قدآور،اور بلند وبالا شخصیت حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اسی تاریخ ساز کارواں کے ایک فرد تھے جو کل یعنی چودہ مئی 2020/بروز جمعرات کو اس دار فانی سے رخصت ہوکر عالم بقا کی طرف روانہ ہوگئے، آپ کی زندگی مختلف الجہات اوصاف کا آئینہ تھی، آپ ایک زبردست، جید،بصیرت مند،بالغ نظر علامہ زماں تھے اور دلوں کی وادیوں میں معرفتِ الٰہی کی شبنمی پھوار برسانے والے واعظ بھی،
اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کی تشریح کے حوالے سے بہترین ترجمان اور بیرسٹر بھی تھے اور فقہ اسلامی وقانون اسلامی کے اسرار و رموز سے آشنا اسلامی لائر بھی،۔ وہ محدث بھی تھے،مفسر بھی، مناظر بھی تھے اور اہل قلم بھی، مقرر بھی تھے اور مصنف بھی، انھوں نے دین کی اشاعت میں اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کیا،لیکن اسلامی عقائد کے قلعوں پر بدعات کی سنگ باری کرنے والوں کے ظاہری محلات کی بنیادیں جس پوزیشن پر تھیں،انھوں نے اپنے قلم سے خاص طور سے نہایت بے باکانہ مگر مکمل سنجیدگی کے ساتھ ان میں موجود تمام خرافات کو عریاں کردیا ہے'،
چنانچہ مطالعہ بریلویت کے نام سے علامہ کے قلم سے آٹھ جلدوں میں رد بدعات پر مشتمل کتاب وجود میں آئی،اگر علامہ کا اور کوئی کارنامہ نہ بھی ہوتا تو بھی تنہا ان کی یہ تصنیف ان کی بلندی اور عظمت کے لئے کافی تھی ،اس کتاب میں اس فرقے کے خود ساختہ نظریات کے ساتھ ساتھ تفصیل کے ساتھ ان کی شیشہ سازی کو آشکارا کیا گیا ہے،
میں نے اس کتاب کو سب سے اپنے استاذ ومربی حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب کے کتب خانے میں اس وقت دیکھا تھا جب نہ علم کی اہمیت تھی نہ ہی اس کی عظمت واہمیت کا شعور، تعلیمی مرحلے سے فراغت کے بعد جب پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اس کی وقعت،اس کی تحقیقات،اس کے مستدلات،اور طرز استدلال،کی عظمت کا اندازہ ہوا، کہنا چاہیے کہ اس موضوع یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا کے درجے میں ہے'،
اس کے علاوہ حضرت علامہ کے قلم سے متعدد ضخیم کتابیں وجود میں آئی ہیں،اور اپنے موضوعات پر معرکۃ الآرا کتابوں کی حیثیت رکھتی ہیں، اس کے علاوہ سینکڑوں علمی و فکری اور تحقیقی مقالات ومضامین مستزاد،
علامہ محمود صاحب 1925/میں امرتسر میں پیدا ہوئے اور جامعہ اشرفیہ لاہور سے متوسطات اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی وہیں اس ادارے کے بانی مفتی محمد حسن امرتسری اور مولانا ادریس کاندھلوی جیسے نابغہ روزگار علماء سے کسب فیض کیا، تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے سیالکوٹ میں سکونت اختیار کر لی یہیں مختلف اداروں اور کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دیں،کچھ عرصے تک پاکستان کی شرعی عدالت کے جج بھی رہے، ستر کی دہائی میں انگلینڈ مقیم ہوگئے ۔
تاہم آپ کا فیضان پوری شان کے ساتھ یہاں بھی جاری رہا، یہاں بہت سے اداروں کی سرپرستی کے علاوہ، عملی،فکری ،اصلاحی اور روحانی مجلسوں اور تدریسی محفلوں کے سلسلے بھی آغاز اقامت سے قائم تھے، ساتھ ساتھ دین وشریعت،اور تاریخ اسلامی کی رہ گذر پر قلم کا سفر بھی جاری رہا۔
حضرت علامہ نے تقریباً ایک صدی پر محیط عمر پائی ہے'اس دورانیے میں کتنے لوگوں نے آپ سے اکتساب فیض کیا ہے'، کس قدر دلوں کے زنگ دور ہوئے ہیں،وجود پر چھائے ہوئے کتنے تاریکیوں کے بادل چھٹے ہیں، عقائد ونظریات کے صحراؤں میں بھٹکے ہوئے کتنے آبلہ پا اذہان کو صحیح سمت سفر ملی ہے'، شک وارتیاب کی دلدل میں پھنسے ہوئے کتنے قلوب کو یقین واذعان کا سرمایہ میسر ہوا ہے'، معصیتوں اور نافرمانیوں کی راہوں پر سرپٹ دوڑنے والے کتنے قدموں میں آپ کی واعظانہ حرارتوں سے ارتعاش پیدا ہوا اور وہ اطاعت کی شاہراہوں کی طرف پلٹے ہیں، اس کا اندازہ کیسے اور کیونکر لگایا جائے، جانے والی شخصیت نے کارناموں کا یہ جہاں جس کے لیے آباد کیا تھا وہ تو یقینا جانتا ہے' اگر یہ خود غرض دنیا ان کی فتوحات سے نابلد بھی رہے تو فاتح کشور علم وفن کی عظمت پر کیا فرق پڑتا ہے'،
ہاں لیکن یہ ضرور ہے'کہ تاریخ ساز ہستیاں رخت سفر باندھتی ہیں تو انسانیت کے گلشنوں میں غم وآلام کی بدلیاں چھاجاتی ہیں، ایک دنیا سوگوار ہوجاتی ہے، بے شمار قلوب اداسیوں میں غرق ہوجاتے ہیں، علمی درسگاہوں سے لیکر روحانی مجلسوں میں ماتمی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے علامہ کی رحلت سے اس وقت دل میں اسی طرح کی کیفیت محسوس ہورہی ہے
جان کر منجملہ خاصان میخانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی مسجد انوار
شیواجی نگر ممبئی 8767438283
روئے زمین پر ہر دور میں علم و عمل اور اخلاق وکردار کی تاریخ رقم کرنے والا ایک کارواں زندگی کے اہم نصب العین کی طرف محو سفر رہا، وہ جہاں جہاں سے گذرا ،انسانیت کے خشک کھیتوں،اور صحرا وبیابان کو سیراب کرتا گیا، اس نے کہیں علم کے چراغ روشن کئے،کہیں فکر ونظر کے دیپ جلائے، کہیں اخلاق وکردار کو زندگی عطا کی،کہیں توحید ورسالت کی قندیل فروزاں کی اور کہیں بیکراں فضاؤں میں پھیلی ہوئی تاریکیوں کا سینہ، انسانیت ،اخوت ،محبت اور الفت ومعرفت کی تیز شعاعوں سے چاک کرکے وقت وزمانے کی پیشانیوں پر عزم واستقلال اور جہد مسلسل کی داستان رقم کردی۔
علمی وتحقیقی اور فکری و نظریاتی دنیا کی نہایت روشن،قدآور،اور بلند وبالا شخصیت حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اسی تاریخ ساز کارواں کے ایک فرد تھے جو کل یعنی چودہ مئی 2020/بروز جمعرات کو اس دار فانی سے رخصت ہوکر عالم بقا کی طرف روانہ ہوگئے، آپ کی زندگی مختلف الجہات اوصاف کا آئینہ تھی، آپ ایک زبردست، جید،بصیرت مند،بالغ نظر علامہ زماں تھے اور دلوں کی وادیوں میں معرفتِ الٰہی کی شبنمی پھوار برسانے والے واعظ بھی،
اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کی تشریح کے حوالے سے بہترین ترجمان اور بیرسٹر بھی تھے اور فقہ اسلامی وقانون اسلامی کے اسرار و رموز سے آشنا اسلامی لائر بھی،۔ وہ محدث بھی تھے،مفسر بھی، مناظر بھی تھے اور اہل قلم بھی، مقرر بھی تھے اور مصنف بھی، انھوں نے دین کی اشاعت میں اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کیا،لیکن اسلامی عقائد کے قلعوں پر بدعات کی سنگ باری کرنے والوں کے ظاہری محلات کی بنیادیں جس پوزیشن پر تھیں،انھوں نے اپنے قلم سے خاص طور سے نہایت بے باکانہ مگر مکمل سنجیدگی کے ساتھ ان میں موجود تمام خرافات کو عریاں کردیا ہے'،
چنانچہ مطالعہ بریلویت کے نام سے علامہ کے قلم سے آٹھ جلدوں میں رد بدعات پر مشتمل کتاب وجود میں آئی،اگر علامہ کا اور کوئی کارنامہ نہ بھی ہوتا تو بھی تنہا ان کی یہ تصنیف ان کی بلندی اور عظمت کے لئے کافی تھی ،اس کتاب میں اس فرقے کے خود ساختہ نظریات کے ساتھ ساتھ تفصیل کے ساتھ ان کی شیشہ سازی کو آشکارا کیا گیا ہے،
میں نے اس کتاب کو سب سے اپنے استاذ ومربی حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب کے کتب خانے میں اس وقت دیکھا تھا جب نہ علم کی اہمیت تھی نہ ہی اس کی عظمت واہمیت کا شعور، تعلیمی مرحلے سے فراغت کے بعد جب پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اس کی وقعت،اس کی تحقیقات،اس کے مستدلات،اور طرز استدلال،کی عظمت کا اندازہ ہوا، کہنا چاہیے کہ اس موضوع یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا کے درجے میں ہے'،
اس کے علاوہ حضرت علامہ کے قلم سے متعدد ضخیم کتابیں وجود میں آئی ہیں،اور اپنے موضوعات پر معرکۃ الآرا کتابوں کی حیثیت رکھتی ہیں، اس کے علاوہ سینکڑوں علمی و فکری اور تحقیقی مقالات ومضامین مستزاد،
علامہ محمود صاحب 1925/میں امرتسر میں پیدا ہوئے اور جامعہ اشرفیہ لاہور سے متوسطات اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی وہیں اس ادارے کے بانی مفتی محمد حسن امرتسری اور مولانا ادریس کاندھلوی جیسے نابغہ روزگار علماء سے کسب فیض کیا، تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے سیالکوٹ میں سکونت اختیار کر لی یہیں مختلف اداروں اور کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دیں،کچھ عرصے تک پاکستان کی شرعی عدالت کے جج بھی رہے، ستر کی دہائی میں انگلینڈ مقیم ہوگئے ۔
تاہم آپ کا فیضان پوری شان کے ساتھ یہاں بھی جاری رہا، یہاں بہت سے اداروں کی سرپرستی کے علاوہ، عملی،فکری ،اصلاحی اور روحانی مجلسوں اور تدریسی محفلوں کے سلسلے بھی آغاز اقامت سے قائم تھے، ساتھ ساتھ دین وشریعت،اور تاریخ اسلامی کی رہ گذر پر قلم کا سفر بھی جاری رہا۔
حضرت علامہ نے تقریباً ایک صدی پر محیط عمر پائی ہے'اس دورانیے میں کتنے لوگوں نے آپ سے اکتساب فیض کیا ہے'، کس قدر دلوں کے زنگ دور ہوئے ہیں،وجود پر چھائے ہوئے کتنے تاریکیوں کے بادل چھٹے ہیں، عقائد ونظریات کے صحراؤں میں بھٹکے ہوئے کتنے آبلہ پا اذہان کو صحیح سمت سفر ملی ہے'، شک وارتیاب کی دلدل میں پھنسے ہوئے کتنے قلوب کو یقین واذعان کا سرمایہ میسر ہوا ہے'، معصیتوں اور نافرمانیوں کی راہوں پر سرپٹ دوڑنے والے کتنے قدموں میں آپ کی واعظانہ حرارتوں سے ارتعاش پیدا ہوا اور وہ اطاعت کی شاہراہوں کی طرف پلٹے ہیں، اس کا اندازہ کیسے اور کیونکر لگایا جائے، جانے والی شخصیت نے کارناموں کا یہ جہاں جس کے لیے آباد کیا تھا وہ تو یقینا جانتا ہے' اگر یہ خود غرض دنیا ان کی فتوحات سے نابلد بھی رہے تو فاتح کشور علم وفن کی عظمت پر کیا فرق پڑتا ہے'،
ہاں لیکن یہ ضرور ہے'کہ تاریخ ساز ہستیاں رخت سفر باندھتی ہیں تو انسانیت کے گلشنوں میں غم وآلام کی بدلیاں چھاجاتی ہیں، ایک دنیا سوگوار ہوجاتی ہے، بے شمار قلوب اداسیوں میں غرق ہوجاتے ہیں، علمی درسگاہوں سے لیکر روحانی مجلسوں میں ماتمی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے علامہ کی رحلت سے اس وقت دل میں اسی طرح کی کیفیت محسوس ہورہی ہے
جان کر منجملہ خاصان میخانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

Comments
Post a Comment