ملک میں پھیلی ہوئی بے کسی کی دھوپ اور خود غرضی ومفاد پرستی۔ شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
- Get link
- X
- Other Apps
ملک میں پھیلی ہوئی بے کسی کی دھوپ اور خود غرضی ومفاد پرستی۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
کسی بھی ملک کی ترقی،قوم کی خوشحالی اور سماج کی خوبصورتی کے لئے جہاں ملک کے فرمانرواؤں کی نیتوں کی شفافیت،قوم وملک کے حوالے سے ان کے مخلصانہ جذبات اور بصیرت مند انہ کردار و عمل، ٹھوس منصوبہ بندی، قوموں کو سہولتوں سے آراستہ کرنے، زندگی کی تمام ضروریات کے حوالے سے انہیں مطمئن کرنے، اور ملک کی ہر شعبے اور ہر میدان میں ترقی کی ضمانت عطا کرنے والے پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے'،
وہیں قوموں کے درمیان بھی ہمدردی کے جذبات،اخوت والفت سے لبریز مخلصانہ اعمال، خیر خواہی و رواداری پر مشتمل افعال،
امانت و دیانت و سخاوت وایثارکے صحت مند جذبات اور انسانی حقوق کے تحفظ و ادائیگی کے حوالے سے بے لوث خدمات پر مشتمل اخلاق وکردار کے مظاہرے بھی ملی زندگی کے لئے ناگزیر ہیں ۔
امانت و دیانت و سخاوت وایثارکے صحت مند جذبات اور انسانی حقوق کے تحفظ و ادائیگی کے حوالے سے بے لوث خدمات پر مشتمل اخلاق وکردار کے مظاہرے بھی ملی زندگی کے لئے ناگزیر ہیں ۔
مذکورہ دونوں بنیادی اوصاف وکردار میں کسی بھی ایک کے فقدان کی وجہ سے معاشرہ بدامنی اور اضطراب وبے چینی کا لازمی طور پر شکار رہتا ہے'، ظاہر ہے جس ملک میں خود غرضی عام ہوجائے ،لوٹ کھسوٹ وہاں کا مزاج بن جائے، ذاتی مفادات میں زندگی اس طرح محصور ہو جائے کہ نگاہیں اپنی خواہشات،اپنی طمع وحرص،اپنی ہوس کے دائرے سے باہر کسی انسانی ہمدردی کے جذبے کے زیر اثر نہ نکل سکیں، اپنی تعیش بھری زندگی کی محدود دنیا کے علاوہ کسی دوسری انسانی دنیا کی نہ اسے خبر ہو اور نہ اسے اس کی ضرورت ہو، وہ دوسرے انسانوں کی لاشوں پر اپنے محلات کی تعمیر میں بھی تکلف محسوس نہ کرتا ہو، اس کے ارد گرد بھوک و افلاس اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کے باعث خانماں برباد قبیلوں کی حالت زار کے خون چکاں مناظر، اپنے گھروں کی پرسکون فضاؤں سے محروم کسی شاہراہ کے کنارے موت کے طوفانوں سے نبرد آزما جھلسے ہوئے،بے جان سے اجسام کے اندوہناک نظارے،کسی مسیحا کی تلاش میں بے شمار بے نور نگاہوں کی فریادیں،
نیم جاں بوڑھوں کا اضطراب،اور معصوم بچوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں بھی اس کے دل میں ارتعاش پیدا نہ کرسکیں، تو وہ معاشرہ حکومتی انصاف کے باوجود انسانوں کا معاشرہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے'،بدقسمتی سے اس ملک میں قوم وملت اور ملک وسماج کو زندگی سے آشنا کرنے والے انسانیت کے دونوں کردار مفقود ہیں،
نیم جاں بوڑھوں کا اضطراب،اور معصوم بچوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں بھی اس کے دل میں ارتعاش پیدا نہ کرسکیں، تو وہ معاشرہ حکومتی انصاف کے باوجود انسانوں کا معاشرہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے'،بدقسمتی سے اس ملک میں قوم وملت اور ملک وسماج کو زندگی سے آشنا کرنے والے انسانیت کے دونوں کردار مفقود ہیں،
فرمانروائے وقت کے سیاسی شعور کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے، کہ بغیر سوچے سمجھے ملک کی معاشی،معاشرتی پوزیشن سے آنکھ بند کرکے کرونا کے نام پر پورے ملک کو قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ،آمدورفت کے سارے ذرائع پر پابندی عائد کردی گئی، زندگی کی تمام علامتوں پر موت کا سایہ ڈال دیا گیا، اس کا نتیجہ ایک ایسے ملک میں جہاں کی اکثریت مزدور اور غریب ہے'جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے باعث ملک کی معیشت چند لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹ گئی ہے،جس خوفناک صورت میں ظاہر ہونا تھا پوری حشر سامانیوں کی صورت میں ظاہر ہوا، لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس پر کنٹرول تو خاطر خواہ نہیں ہوسکا ہاں اتنا ضرور ہوا کہ لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے، ہزاروں لوگ موت کا لقمہ بن گئے، لاکھوں لوگ جو خوشحال تھے وہ خط افلاس کے نیچے آگئے،اور نان شبینہ کے محتاج ہوگئے،
حکومت کی نیتوں میں کتنا اخلاص ہے'، اس میں کس قدر شفافیت ہے'، ملک کے حوالے سے وہ کس قدر سنجیدہ ہے'،قوم کا اسے کتنا درد ہے'، معاشرے اور سماجی حالات کی ترقی اور خوشحالی کی اسے کتنی فکر ہے'، ان تمام سوالوں کے جواب اب معمہ نہیں رہے،کسی فلسفے کا چیپٹر نہیں رہے بلکہ حکومت کے حالیہ کرداروں کی روشنی میں بالکل آفتاب نیم روز کے طرح آشکار ہوچکے ہیں، لاک ڈاؤن کا مقصد پوری دنیا میں اس کے سوا کچھ نہیں ہے'کہ حالیہ مہلک مرض سے ملک وقوم چھٹکارا حاصل کرلے، اس قدر زود اثر ابھی کوئی تدبیر دنیا میں دریافت نہیں ہوئی ہے'، لیکن یہی تدبیر یہاں کرونا وائرس کو ختم کرنے کے لئے کم اور ایک خاص کمیونٹی کو ٹارگیٹ کرنے کے لئے زیادہ استعمال ہوئی اور ہورہی ہے'، اس وبا کے نام پر جی بھر کے پولیس فورس نے اقلیتوں کے خلاف دشمنی کی بھڑاس نکالی، مسجدوں اور عام ضرورت کے مقامات پر بے دریغ لاٹھیاں برسائیں، کتنے ان کے تشدد کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگئے، اس ملک کا انسان کرونا سے کیا مرتا،خود یہاں کے محافظوں کی بربریت موت بن کر سروں پر سوار تھی، اس معاملے میں ہمیشہ کی طرح ملکی میڈیا نے بھی خاص مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا، اسی ملک میں اکثریت کے اجلاس،ان کی تقریبات، ان کی شادیاں، ہزاروں افراد پر مشتمل ان کے عظیم الشان جلوس، اور وزراء اعلی ودیگر سرکاری عہدیداروں کی افتتاحی مجلسیں،سنگ بنیاد کی کانفرنسیں عام معمول کی طرح،ہوتی رہیں مگر ان سب کو نظر انداز کرکے تبلیغی مرکز کو اس سنگھی اور فرقہ پرست میڈیا نے نشانہ بنایا اور اسے بدنام کرنے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی،یہاں تک کہ ملک میں نفرت کی فضا ایسی زہر آلود ہوئی کہ مسلمان کو جگہ جگہ بائیکاٹ کردیا گیا، اسی خائن اور انصاف ودیانت کا خون کرنے والی ،ضمیر وصداقت فروش میڈیا ہی کی کارستانیوں کا اثر تھا کہ تبلیغ کے نام پر پورے ملک میں مسلمانوں کو کورنٹائن کے حوالے سے دو دو مہینوں تک قید میں رکھا گیا، مدارس کے طلباء کو بلاوجہ صحت کے باوجود مقید کیا گیا، ہزاروں مرکز کے افراد کو کرونا وائرس پھیلانے کے جرم میں جیلوں میں بند کردیا گیا،یہ دردناک کہانی بڑی تفصیل چاہتی ہے، ملک میں انہیں منظم شدہ پالیسیوں کے درمیان انصاف وجمہوریت پر شب خون مارنے والا یہ ظالما نہ کردار بھی ظاہر ہوا کہ ملک میں جمہوریت کے خلاف اور سیکولرازم کے خلاف این آر سی اور
سی اے اے،،جیسے قانون کے خلاف جامعہ ملیہ کے جن طلباء وطالبات نے قانون کے تحت رہ کر آواز بلند کی تھی،اب لاک ڈاؤن کی حالت میں تیزی سے انہیں گرفتار کیا جارہا ہے'، اور یہ بات طے ہے کہ اتنا بڑا اور انتہائی ظالمانہ قدم حکومت کی منشاء کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا،
سی اے اے،،جیسے قانون کے خلاف جامعہ ملیہ کے جن طلباء وطالبات نے قانون کے تحت رہ کر آواز بلند کی تھی،اب لاک ڈاؤن کی حالت میں تیزی سے انہیں گرفتار کیا جارہا ہے'، اور یہ بات طے ہے کہ اتنا بڑا اور انتہائی ظالمانہ قدم حکومت کی منشاء کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا،
حال ہی میں ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب جو ملک کی عزت ووقار کی روشن علامت ہیں ان کو بھی انتظامیہ نے ظلم وبربریت کا نشانہ بنانا چاہا اور اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکی تو انصاف ودیانت کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں ڈاکٹر صاحب جیسی عالمی شخصیت پر بھی ان کے خلاف مقدمات قائم کردیا ۔۔۔ یہ تمام کردار حکومت کی نیتوں پر،اس کے ہمدردانہ نعروں، اس کی ترقی کے منصوبوں کے اعلامیہ پر ،اور اس کے جمہوری نظریات کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس سے اس کے چیلنج کے دعوؤں پر ببانگ دہل سوال اٹھا رہے ہیں،اور ملک کا عام فرد یہ سوچنے پراب مجبور ہے'کہ حکومت واقعی ملک وقوم کی ہمدرد ہے'یا اس کی ہمدردی لفظوں کے خوبصورت گلشن اور کاغذی پیرہن کی طرح بے روح جسم ہے' جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے'۔
ایسی صورت حال میں جب ملک اہل سیاست کے ذاتی مفادات کے اسٹیج پر بے بسی اور مظلومیت کی داستان سنا رہا ہو، نگہبان ملک کے بے شعور اور بے بصیرت وغیر دانشمندانہ اقدام کے نتیجے میں جب ملک شکست وریخت سے ہر شعبے میں دوچار ہو، ہر طرف قیامت کا سماں اور ہر سو تباہی کے خونچکاں مناظر ہوں تو عوام کے اوپر اخلاق کردار اور ہمدردی و غم گساری، کی ذمہ داریاں دوبالا ہوجاتی ہیں، ایثار و قربانی اور الفت واخوت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہیں، لیکن برا ہو مادہ پرستی اور خود غرضی کا کہ ایسے رستا خیز دور میں بھی ایثار ہمدردی کا مظاہرہ عموماً بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، مادہ پرستی کا عفریت پورے سامان فتنہ انگیزی کے ساتھ اعصاب پر سوار رہتا ہے'، ذاتی مفادات اور نفرتوں کی چنگاریاں محبتوں کے درختوں اور انسانیت کے پودوں کو پنپنے نہیں دیتی ہیں، اور مادیت اور خودغرضی کے حصار میں جینے والے اپنے ضمیر کی آواز سننے پر آمادہ نہیں ہوتے ،وہ وقت کے تقاضوں کو محسوس نہیں کرتے ، ان کا فطری احساس مفاد پرستی کے انگاروں کے باعث اس قدر بے جان ہوجاتا ہے'کہ وہ انسان نما حیوانوں کے اندر زندگی اور انسانیت کا معمولی سا چراغ بھی روشن کرنے میں ناکام رہتا ہے'، یہ کردار اگر اہل زر اور اہل منصب کے یہاں نظر آئے تو یہ امر تعجب خیز نہیں ہے مگر عام افراد کے اندر اگر اس کردار کی جھلک بھی نظر آئے تو یقیناً حیرت ہوتی ہے،ایسے حالات میں اگر قوموں کی بربادی اور اس کے مستقبل کی تاریکیوں کے بارے میں اندیشے اور وسوسے یقین واذعان کی کیفیت اختیار کرلیں تو یہ امر بھی باعث حیرت نہیں ہے'،
خود غرضی اور حیوانیت کے انسانیت کش کردار کی ایک جھلک یہ ہے'کہ حکومت کے غیر ذمہ دارانہ نظام اور اقدام کی وجہ سے مزدوروں اور غریبوں کے افلاس اور فاقہ مستی کے ایام دراز ہوئے تو موت نگاہوں کے سامنے آئی، زندگی کی بقا خطرے میں ہوئی تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد نے اپنی سواریوں سائیکلوں اور پیدل رخت سفر باندھا، افتاں وخیزاں بہت سے لوگ منزل آشنا ہوئے اور بے شمار افراد راہ میں ہی دم توڑ گئے، حکومت کو ان کی مشکلات کے بارے میں نہیں سوچنا تھا سو اس نے ذرا بھی توجہ نہیں دی،
بے یارومددگار قافلوں کے قافلے بے سروسامانی کے عالم باوجود اس کے آبلہ پائی کرتے رہے، پولیس کے نام نہاد محافظ نے لاٹھیاں برسائیں، جیب میں زاد راہ کے طور پر جو پونجی تھی قبضہ کرلیا، بجائے اس کے کہ ان کے لئے وہ سہولیات فراہم کرتی قدم قدم پر مشکلات پیدا کیں، پھر بھی قافلے رکے نہیں بلکہ ممبئی دہلی اور دوسرے شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ اب ان پر تشدد وبربریت دشوار ہوگئی تو اس طبقے نے اپنی قدیم عادت کے مطابق رویہ بدل لیا۔۔
لاشوں سے کفن نوچنے کا پھر تیزی سے رشوت کی صورت میں دوسرا طریقہ شروع ہوا اور ہنوز دھڑلے سے خون چوسنے کا یہ عمل جاری ہے،
بے یارومددگار قافلوں کے قافلے بے سروسامانی کے عالم باوجود اس کے آبلہ پائی کرتے رہے، پولیس کے نام نہاد محافظ نے لاٹھیاں برسائیں، جیب میں زاد راہ کے طور پر جو پونجی تھی قبضہ کرلیا، بجائے اس کے کہ ان کے لئے وہ سہولیات فراہم کرتی قدم قدم پر مشکلات پیدا کیں، پھر بھی قافلے رکے نہیں بلکہ ممبئی دہلی اور دوسرے شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ اب ان پر تشدد وبربریت دشوار ہوگئی تو اس طبقے نے اپنی قدیم عادت کے مطابق رویہ بدل لیا۔۔
لاشوں سے کفن نوچنے کا پھر تیزی سے رشوت کی صورت میں دوسرا طریقہ شروع ہوا اور ہنوز دھڑلے سے خون چوسنے کا یہ عمل جاری ہے،
دوسری طرف جن لوگوں کے پاس مال گاڑیاں،لاریاں ،ٹیمپو، اور ٹرک تھے انھوں نے ٹراسپورٹنگ شروع کی اور چار چار گنا قیمتیں لے کر خود غرضی اور حیوانیت کا مظاہرہ کیا ہے یہ عمل اگر صرف غیر مسلموں کی طرف سے ہوتا تو یہ بات جائے تعجب نہیں تھی،
قیامت یہ ہے کہ اس طرح لوٹ کھسوٹ اور وقت کا ناجائز فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں اور مجبوروں وبے کسوں کے جسم کے کپڑے وہ اتار رہے ہیں جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور اس نبی کی امت ہیں ایثار و قربانی جس کا امتیاز اور انسانیت نوازی جس کا شعار تھی، ممبئی سے عموماً مسافروں کو جو ٹرک والے لیکر آرہے ہیں وہ جانوروں کی طرح انہیں بے دردی سے بھر لیتے ہیں اور پندرہ سو کی جگہ چار یا پانچ ہزار وصول کررہے ہیں، جانے کیوں ایسا کرتے وقت انہیں آخرت کا خوف کیوں نہیں آتا، انسانیت کے ساتھ بدترین سلوک اور اخلاق سوزی کے ذریعے خدا کی قدرت اور اس کی قوت کو چیلنج کرتے وقت کیوں ان کے اجسام میں ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔
قیامت یہ ہے کہ اس طرح لوٹ کھسوٹ اور وقت کا ناجائز فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں اور مجبوروں وبے کسوں کے جسم کے کپڑے وہ اتار رہے ہیں جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور اس نبی کی امت ہیں ایثار و قربانی جس کا امتیاز اور انسانیت نوازی جس کا شعار تھی، ممبئی سے عموماً مسافروں کو جو ٹرک والے لیکر آرہے ہیں وہ جانوروں کی طرح انہیں بے دردی سے بھر لیتے ہیں اور پندرہ سو کی جگہ چار یا پانچ ہزار وصول کررہے ہیں، جانے کیوں ایسا کرتے وقت انہیں آخرت کا خوف کیوں نہیں آتا، انسانیت کے ساتھ بدترین سلوک اور اخلاق سوزی کے ذریعے خدا کی قدرت اور اس کی قوت کو چیلنج کرتے وقت کیوں ان کے اجسام میں ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔
تیسری طرف حیوانیت اور بداخلاقی وبدتہذیبی کی انتہا یہ ہے کہ گاڑیوں کی قطاریں جب ایم پی،یا یوپی کے علاقوں میں گذرتی ہے تو وہاں کے رہنے والے ان بھوکے پیاسے مسافروں کو ایک گلاس پانی بھی پلانے کو روادار نہیں ہوتے ہیں، حال ہی میں ایک گاؤں کے پاس لٹے پٹے مسافروں کی کئی گاڑیاں رک گئیں کہ ممکن ہے'کچھ کھانے پینے کو میسر ہوجائے،گاؤں والوں کو یہ گوارا نہیں ہوا اور وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر کہیں اور نکل گئے،تاکہ پانی وغیرہ نہ پلانا پڑے، یہ فعل جس قدر انسانیت سوز ہے'اسی قدر شرمناک اور مشرقی اقدار وروایات کے بھی خلاف ہے'، ایسے مواقع پر نہ صرف مذہب بلکہ انسانیت اور آدمیت کا بھی تقاضا ہے کہ مذہب ونظریات سے اوپر اٹھ کر ان برباد و بے کس لوگوں کی اشک سوئی کی جائے، ان کے کھانے پینے اور زاد راہ کا انتظام کیا جائے، ان کے تازہ دم ہونے کے لئے ٹھہرنے کا مناسب نظم کیا جائے۔ خود غرضی،مفاد پرستی، ذاتی ہوس، مال کی حرص،اور نفرت وعداوت،نیز قومی،مذہبی ، نظریاتی اور علاقائی اختلافات کو پس پشت ڈال کر انسانیت کی آواز پر توجہ دی جائے، تاکہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہوئے ملک کا معاشرتی ڈھانچہ بکھرنے سے بچ جائے،
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment